
1۔مرد کی نماز کا طریقہ احادیث سے ثابت ہے جب کہ عورت کی نماز کا طریقہ ممکنہ طور پر احادیث سے ثابت نہیں تو کوئی غیر مقلد ہم سے سوال کرے کہ جس طریقہ پر عورتیں نماز پڑھتی ہیں وہ کہاں سے ثابت ہے اور ہم سےدلیل مانگے تو ہم کیا جواب دینگے؟
2۔میت کے گھر کھانا کھانے کا کیا حکم ہے؟اگر کوئی جنازہ میں جائے اور کھانے کا وقت بھی ہو کھانا پیش کردیا جائے تو کیا میت کے گھر کا کھانا کھایا جاسکتاہے؟
3۔کہیں میت ہوتو میت کے گھر والے آکر کہیں کہ آپ تھوڑی سے بات کرلیں ،چھ نمبربیان کرلیں ،کچھ اصلاحی باتیں کرلیں،اس کی دو صورتیں ہیں کہ پہلے سے میت کے گھر موجود شخص کو کہا جائے کہ آکر بات کرلیں ،یا چھ نمبر کا مذاکرہ کرلیں ،یا پھر خاص طور پر کسی کو بلایا جائے،تو یہ دونوں صورتیں جائز ہیں یا نہیں؟خلاصہ میت کے گھر چھ نمبر کہنا یا اصلاحی باتیں کرنا یہ بدعت میں شمار ہے یا نہیں اور کیا اس کی اجازت ہے یا نہیں؟
1۔مرد و عورت کی نماز میں اصولی فرق ستر اور پردے کا ہے، جیساکہ بعض روایات میں اس کی صراحت ہے، لہٰذا عورت کے حق میں مختلف ارکان کی ادائیگی میں زیادہ ستر (پردے) کا خیال رکھا گیاہے، مرد اور عورت کی نماز کے درمیان فرق درج ذیل ہیں:
1- پہلا فرق تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ کے اٹھانے کی ہیئت میں ہے:
جس کی تفصیل یہ ہے کہ مرد تحریمہ کے وقت کانوں تک ہاتھ اٹھائیں گے جب کہ خواتین کے لیے سینے تک ہاتھ اٹھانے کا حکم ہے۔
مجمع الزوائد میں ہے:
"وعن وائل بن حجر قال: جئت إلى النبي صلى الله عليه وسلم ........."فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: " يا وائل بن حجر، إذا صليت فاجعل يديك حذاء أذنيك، والمرأة تجعل يديها حذاء ثدييها."
(باب ما جاء في وائل بن حجر،رقم :15999،ج:9،ص:373،ط مكتبة القدسي القاهرة)
ترجمہ: حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا (درمیان میں طویل عبارت ہے، اس میں ہے کہ) آں حضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے ارشاد فرمایا: اے وائل! جب تم نماز پڑھو تو اپنے دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھاؤ اور عورت اپنے دونوں ہاتھ اپنی چھاتی کے برابر اٹھائے۔
مصنف ابن أبي شیبة میں ہے :
"حدثنا هشيم، قال: أنا شيخ لنا ، قال: سمعت عطاء، سئل عن المرأة: كيف ترفع يديها في الصلاة؟ قال: «حذو ثدييها»".
( باب في المرأة إذا افتتحت الصلاة ، إلى أين ترفع يديها، ج:1،ص:216،ط، مكتبة الرشد الرياض)
ترجمہ: حضرت عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ عورت نماز میں ہاتھ کہاں تک اٹھائے؟فرمایا : اپنے سینے تک۔
مصنف ابن أبي شیبة میں ہے :
"عن عبد ربه بن زيتون، قال: رأيت أم الدرداء، ترفع كفيها حذو منكبيها حين تفتتح الصلاة."
( باب في المرأة إذا افتتحت الصلاة ، إلى أين ترفع يديها، ج:1،ص:216،ط، مكتبة الرشد الرياض)
ترجمہ: عبد ربہ بن زیتون سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ نماز شروع کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھاتیں۔
ان تین روایات سے عورت کے لیے ہاتھوں کو کندھے اور سینہ تک اٹھانے کا تذکرہ موجود ہے، لہٰذا عورت اپنے ہاتھ اس طرح اٹھائے گی کہ ہاتھوں کی انگلیاں کندھوں تک اور ہتھیلیاں سینہ کے برابر آجائیں، اس فرق کی عقلی وجہ یہ ہے کہ اس طرح ہاتھ اٹھانے میں زیادہ ستر پوشی ہوتی ہے، جو عورت کے حق میں عین مطلوب ہے۔
2- دوسرا فرق رکوع کی ہیئت میں ہے کہ مرد رکوع میں اپنے بازو اپنے پہلو سے جدا رکھیں گے جب کہ خواتین اپنے بازؤں کو پہلو سے جدا نہیں کریں گی۔
مصنف عبدالرزاق میں ہے:
"عن عطاء قال: تجتمع المراة إذا ركعت ترفع يديها إلى بطنها وتجتمع ما استطاعت".
(باب تكبير المرأة بيديها وقيام المرأة و ركوعها وسجودها، ج:3، ص:408، رقم :5211، ط،دار التأصيل)
ترجمہ: حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ عورت سمٹ کر رکوع کرے گی، اپنے ہاتھوں کو اپنے پیٹ کی طرف ملائے گی، جتنا سمٹ سکتی ہو سمٹ جائے گی۔
3- تيسرا فرق سجدہ کرنے کی ہیئت میں ہے کہ مرد سجدے میں بازو کو پہلو سے جدا رکھیں گے جب کہ خواتین مرد کی طرح کھل کر سجدہ نہیں کریں گی، بلکہ اپنے پیٹ کو اپنی رانوں سے ملائیں گی، بازؤوں کو پہلو سے ملا کر رکھیں گی اور کہنیاں زمین پر بچھا دیں گی۔
السنن الكبرى البيهقي ميں ہے:
عن يزيد بن أبي حبيب، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على امرأتين تصليان فقال: " إذا سجدتما فضما بعض اللحم إلى الأرض فإن المرأة ليست في ذلك كالرجل "
(باب ما يستحب للمرأة من ترك التجافي في الركوع والسجود، رقم :3201، ج:2، ص:315، ط،دار الكتب العلمية)
ترجمہ : حضرت یزید بن ابی حبیب سے مروی ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ و سلم دو عورتوں کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہی تھیں، آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم سجدہ کرو تو اپنے جسم کا کچھ حصہ زمین سے ملالیا کرو؛ کیوں کہ عورت (کا حکم سجدہ کی حالت میں) مرد کی طرح نہیں ہے۔
السنن الكبرى البيهقي ميں ہے:
عن عبد الله بن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إذا جلست المرأة في الصلاة وضعت فخذها على فخذها الأخرى، وإذا سجدت ألصقت بطنها في فخذيها كأستر ما يكون لها، وإن الله تعالى ينظر إليها ويقول: يا ملائكتي أشهدكم أني قد غفرت لها "
(باب ما يستحب للمرأة من ترك التجافي في الركوع والسجود، رقم :3199، ج:2، ص:315، ط،دار الكتب العلمية)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب عورت نماز میں بیٹھے تو اپنی ایک ران دوسری ران پر رکھے اور جب سجدہ کرے تو اپنا پیٹ اپنی رانوں کے ساتھ ملا لے جو اس کے لیے زیادہ پردے کی حالت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی طرف دیکھتے ہیں اور فرماتے ہیں:اے میرے ملائکہ ! گواہ بن جاؤ میں نے اس عورت کو بخش دیا۔
السنن الكبرى البيهقي ميں ہے:
عن أبي سعيد الخدري، صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: ...... وكان " يأمر الرجال أن يتجافوا في سجودهم، ويأمر النساء ينخفضن في سجودهن
(باب ما يستحب للمرأة من ترك التجافي في الركوع والسجود، ج:2، ص:314، رقم:3198، ط:دار الكتب العلمية،)
ترجمہ: صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کو حکم فرماتے تھے کہ سجدے میں (اپنی رانوں کو پیٹ سے) جدا رکھیں اور عورتوں کو حکم فرماتے تھے کہ خوب سمٹ کر (یعنی رانوں کو پیٹ سے ملا کر) سجدہ کریں۔
4-چوتھافرق سجدے سے اٹھ کر بیٹھنے کی ہیئت میں ہے کہ عورت اپنے دونوں پاؤں دائیں جانب نکال کر سرین کے بل اس طرح بیٹھے کہ دائیں ران بائیں ران کے ساتھ ملا دے۔
السنن الكبرى البيهقي ميں ہے:
عن عبد الله بن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إذا جلست المرأة في الصلاة وضعت فخذها على فخذها الأخرى، وإذا سجدت ألصقت بطنها في فخذيها كأستر ما يكون لها، وإن الله تعالى ينظر إليها ويقول: يا ملائكتي أشهدكم أني قد غفرت لها "
(باب ما يستحب للمرأة من ترك التجافي في الركوع والسجود، رقم :3199، ج:2، ص:315، ط،دار الكتب العلمية)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب عورت نماز میں بیٹھے تو اپنی ایک ران دوسری ران پر رکھے اور جب سجدہ کرے تو اپنا پیٹ اپنی رانوں کے ساتھ ملا لے جو اس کے لیے زیادہ پردے کی حالت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی طرف دیکھتے ہیں اور فرماتے ہیں:اے میرے ملائکہ ! گواہ بن جاؤ میں نے اس عورت کو بخش دیا۔
السنن الكبرى البيهقي ميں ہے:
عن أبي سعيد الخدري، صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال:۔۔۔۔۔۔ "وكان يأمر الرجال أن يفرشوا اليسرى، وينصبوا اليمنى في التشهد، ويأمر النساء أن يتربعن"
(باب ما يستحب للمرأة من ترك التجافي في الركوع والسجود، رقم :3198 ،ج:2، ص:314، ط،دار الكتب العلمية)
ترجمہ: صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کو حکم فرماتے تھے کہ تشہد میں بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھیں اور دایاں پاؤں کھڑا رکھیں اور عورتوں کو حکم فرماتے تھے کہ چہار زانو بیٹھیں۔
المصنف ابن أبي شيبةمیں ہے:
"عن ابن عباس أنه سئل عن صلاة المرأة، فقال: تجتمع وتحتفر"
(فصل فی المرأة كيف تكون في سجودها، رقم :2778، ج:1، ص:241، ط،مكتبة الرشد الرياض)
ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عورت کی نماز سے متعلق سوال کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خوب سمٹ کر نماز پڑھے اور بیٹھنے کی حالت میں سرین کے بل بیٹھے۔
2۔1۔ جس گھر میں میت ہوجائے اس کے پڑوسیوں اور رشتے داروں کے لیے مستحب اور باعث اجر و ثواب ہے کہ میت کے گھر والوں کے لیے اس دن (دو وقت) کے کھانے کا انتظام کریں، اور خود ساتھ بیٹھ کر، اصرار کر کے ان کو کھلائیں،اور ضرورت ہو تو تین دن تک کھانا کھلانا بھی جائز ہے، اہلِ میت کو یہ کھانا کھلانا اس وجہ سے نہیں ہوتا کہ میت کے گھر میں یا میت کے گھر والوں کے لیے کھانا پکانا ممنوع ہے، بلکہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ غم و حزن اور تجہیز و تکفین کی مشغولیت کی وجہ سے ان کو کھانا پکانے کا موقع نہیں ملے گا،تاہم عام تعزیت کرنے والوں کےلیے حکم یہ ہے کہ میت کے گھر کھانا کھانے کے بجائے اپنے اپنے گھروں کو واپس جاکر کھانا کھائیں،میت کے گھر میں دعوت کا ماحول بنانا بدعت واجب الترک ہے، تاہم دور دراز سے تعزیت کے لیے آنے والوں کےلیے میت کے گھر کھانا کھانے کی اجازت ہے ۔
3۔میت کے گھر میں چھ نمبرکا مذاکرہ کرنا یا اصلاحی باتیں کرنا جائز ہے اور یہ بدعت میں شمار نہیں ہوگا ۔
حدیث شریف میں ہے:
"وعن عبد الله بن جعفر قال: لما جاء نعي جعفر قال النبي صلى الله عليه وسلم: صانعوا لآل جعفر طعاما فقد أتاهم ما يشغلهم). رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه".
"ترجمہ: جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تيار کرو؛ کیوں کہ انہیں وہ چیز پہنچی ہے، جس نے انہیں مشغول کر دیا ہے۔"
(مشکاة المصابیح، کتاب الجنائز، باب البکاء علی المیت،الفصل الثاني، ص:151 ،ط:قدیمي)
صحیح البخاری میں ہے:
"عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم :أنها كانت إذا مات الميت من أهلها فاجتمع لذلك النساء، ثم تفرقن إلا أهلها وخاصتها، أمرت ببرمة من تلبينة فطبخت، ثم صنع ثريد فصبت التلبينة عليها، ثم قالت: كلن منها؛ فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: التلبينة مجمة لفؤاد المريض، تذهب ببعض الحزن."
"حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے کہ جب ان کاکوئی رشتہ دار مرجاتاتو عورتیں ہوتیں،پھر سب اپنے گھر چلی جاتیں،مگر خاص خاص اور قریب کی عورتیں رہ جاتیں اور تلبینہ بنانے کا حکم دیتی،وہ پکایا جاتا،پھر ثرید بناکر تلبینہ اس پر ڈال دیا جاتا،پھرفرماتی کہ اسے کھاؤ،اس لیے کہ میں نے حضور اکرمﷺکو فرماتے ہوئے سناہےکہ تلبینہ مریض کے دل کو تسکین دیتا ہےاور غم کو دور کرتا ہے۔"
(كتاب الاطعمة، باب التلبينة، ج:7،ص:75،ط:المطبعة الكبری الاميرية ببولاق مصر)
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
"و المعنى جاءهم ما يمنعهم من الحزن عن تهيئة الطعام لأنفسهم، فيحصل لهم الضرر وهم لايشعرون. قال الطيبي: دلّ على أنه يستحبّ للأقارب و الجيران تهيئة طعام لأهل الميت اهـ. و المراد طعام يشبعهم يومهم وليلتهم، فإنّ الغالب أن الحزن الشاغل عن تناول الطعام لايستمر أكثر من يوم، و قيل: يحمل لهم طعام إلى ثلاثة أيام مدة التعزية، ثم إذا صنع لهم ما ذكر من أن يلح عليهم في الأكل لئلايضعفوا بتركه استحياء، أو لفرط جزع، و اصطناعه من بعيد أو قريب للنائحات شديد التحريم؛ لأنه إعانة على المعصية، واصطناع أهل البيت له لأجل اجتماع الناس عليه بدعة مكروهة، بل صح عن جرير رضي الله عنه: كنا نعده من النياحة، وهو ظاهر في التحريم. قال الغزالي: ويكره الأكل منه، قلت: وهذا إذا لم يكن من مال اليتيم أو الغائب، وإلا فهو حرام بلا خلاف."
(کتاب الجنائز، باب البکاء علی المیت،الفصل الثانی،ج:4، 194، ،ط: رشیدیة)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(قوله: وباتخاذ طعام لهم) قال في الفتح: ويستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم وليلتهم، لقوله صلى الله عليه وسلم: «اصنعوا لآل جعفر طعاماً فقد جاءهم ما يشغلهم». حسنه الترمذي وصححه الحاكم؛ ولأنه بر ومعروف، ويلح عليهم في الأكل؛ لأن الحزن يمنعهم من ذلك فيضعفون. اهـ.
مطلب في كراهة الضيافة من أهل الميت
وقال أيضاً: ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت؛ لأنه شرع في السرور لا في الشرور، وهي بدعة مستقبحة: وروى الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال: " كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة ". اهـ. وفي البزازية: ويكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول والثالث وبعد الأسبوع ونقل الطعام إلى القبر في المواسم، واتخاذ الدعوة لقراءة القرآن وجمع الصلحاء والقراء للختم أو لقراءة سورة الأنعام أو الإخلاص. والحاصل: أن اتخاذ الطعام عند قراءة القرآن لأجل الأكل يكره. وفيها من كتاب الاستحسان: وإن اتخذ طعاماً للفقراء كان حسناً اهـ وأطال في ذلك في المعراج. وقال: وهذه الأفعال كلها للسمعة والرياء فيحترز عنها لأنهم لايريدون بها وجه الله تعالى. اهـ. وبحث هنا في شرح المنية بمعارضة حديث جرير المار بحديث آخر فيه «أنه عليه الصلاة والسلام دعته امرأة رجل ميت لما رجع من دفنه فجاء وجيء بالطعام» . أقول: وفيه نظر، فإنه واقعة حال لا عموم لها مع احتمال سبب خاص، بخلاف ما في حديث جرير. على أنه بحث في المنقول في مذهبنا ومذهب غيرنا كالشافعية والحنابلة استدلالاً بحديث جرير المذكور على الكراهة، ولا سيما إذا كان في الورثة صغار أو غائب، مع قطع النظر عما يحصل عند ذلك غالباً من المنكرات الكثيرة كإيقاد الشموع والقناديل التي توجد في الأفراح، وكدق الطبول، والغناء بالأصوات الحسان، واجتماع النساء والمردان، وأخذ الأجرة على الذكر وقراءة القرآن، وغير ذلك مما هو مشاهد في هذه الأزمان، وما كان كذلك فلا شك في حرمته وبطلان الوصية به، ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم".
(کتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، ج:2، ص:240، ط: سعید)
فتح القدیرمیں ہے:
"ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور، وهي بدعة مستقبحة. روى الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال: كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة. ويستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم وليلتهم؛ لقوله صلى الله عليه وسلم: «اصنعوا لآل جعفر طعاماً فقد جاءهم ما يشغلهم». حسنه الترمذي وصححه الحاكم؛ ولأنه بر ومعروف، ويلح عليهم في الأكل؛ لأن الحزن يمنعهم من ذلك فيضعفون، والله أعلم".
(کتاب الصلاة، قبیل باب الشهید، ج:2، ص:102، ط: رشیدیة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705101048
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن