بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1441ھ- 04 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

عورت کو شوہر اور سسرال کی طرف سے ملنے والے زیور کی زکاۃ کا حکم


سوال

میری بیوی کو میں اور والدین نے مل کر ساڑھے چھ تولے سونا بنا کر دیا ہے، کیا اس پر زکات واجب ہے جب کہ  میری دو بالغ بیٹیاں ہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر آپ نےاور آپ کے والدین نے  یا آپ کی بیوی کے والدین نے آپ کی بیوی کو  زیور ملکیتاً  دیا ہے تو وہ اسی کی ملکیت ہے، اس  کی زکاۃ اسی پر لازم ہے، آپ پر بیوی کے زیورات کی زکاۃ ادا کرنا لازم نہیں ہے۔البتہ آپ  بیوی کی اجازت سے  اس کی طرف سے زکاۃ  ادا کرسکتے ہیں۔

 باقی آپ  بیوی پر اس کے زیور کی زکاۃ لازم ہونے  میں یہ تفصیل ہے کہ اگر اس کی  ملکیت میں صرف سونے کے زیورات ہیں، اس کے علاوہ نقدی، چاندی، مالِ  تجارت نہیں ہے، تو اس سونے پر زکاۃ واجب ہونے کا نصاب ساڑھے سات تولہ سونا ہے، اگر اس سے کم سونا موجود ہو تو اس پر زکوٰۃ لازم نہیں ہے،  لہذا اگر آپ کی بیوی کے پاس صرف یہی ساڑھے چھ تولہ سونا موجود ہو تو اس پر زکاۃ لازم نہیں ہوگی۔

 لیکن  اگر سونے کے ساتھ، کچھ چاندی یا  ضرورت سے زائد کچھ نقدی بھی موجود ہو تو پھر زکاۃ واجب ہونے کا نصاب ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت ہے، اس صورت میں ان سب چیزوں کی مجموعی مالیت لگاکر سالانہ ڈھائی فیصد زکاۃ ادا کرنا ضروری ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107201136

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے