
میں شادی کے بعد گھر میں اکیلے اور بیمار ہونے کی وجہ سے والدین کے ساتھ بمع شوہر کے رہ رہی ہوں، اور والدین کی طرف سے ایک کمرہ، واش روم کے ساتھ ملا ہوا ہے اور کھانا پینا والدین کے ساتھ ہے، باوجود اس کے کہ شوہر کمارہے ہیں۔
کیا اس طرح والدین کے ساتھ کھانا پینا ، میرا اور میری فیملی ( شوہر بمع دو بچے) کے درست ہے یا یہ شوہر پر لازم ہے؟۔ یا جس کمرے میں رہائش ہے وہاں کا کرایہ، بجلی اور گیس کا بل بھی لازم ہوگا؟ نیز گھر میں کھانے پینے کی اشیاء اورا س کے علاوہ بھی ایسی چیزیں ہیں جو مشترکہ استعمال میں ہیں کہ کچھ اپنی چیز شامل کرلیں اور کچھ والدین کے گھر کی ، جہاں ضرورت پڑی ، تو کیا یہ صورت جائز ہے؟
واضح رہے کہ نکاح اور رخصتی کے بعد بیوی کا نان نفقہ اور رہائش شوہر کے ذمہ لازم ہے، بشرط یہ کہ بیوی شوہر کے گھر میں ہو یا شوہر کی اجازت سے میکہ میں رہ رہی ہو، لیکن اگر بیوی کا نان ونفقہ کسی عذر کی بنیاد پر یا خوشی ورضا سےبیوی یا شوہر کے والدین یا کوئی اور ادا کردے تو یہ ناجائز نہیں ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں اگر سائلہ اپنی بیماری اور دوسرے اعذار کی بنا پر اپنے شوہر اور بچوں سمیت اپنے والدین کے گھر میں ان کی رضامندی سے رہائش پذیر ہے تو یہ جائز ہے، ایسی صورت میں اگر گھر کے اخراجات باہمی رضامندی سے مل جل کر ادا کئے جارہے ہیں یا بعض چیزیں اپنی خوشی ورضا سے سائلہ کے والدین خود ادا کررہے ہیں تو اس میں مضائقہ نہیں ہے، تاہم اگرآئندہ کےلئے سائلہ کے والد اپنے داماد سے اس کے اور اس کے اہل وعیال کے رہائشی کمرے کا کرایہ اور اس کے بقدر بجلی اور گیس کے بل کی ادائیگی کا مطالبہ کریں یا ان کے کھانے پینے کے خرچ کے بقدر رقم کا مطالبہ کریں تو ان کو یہ حق حاصل ہے۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
" (وتجب) النفقة بأنواعها على الحر (لطفله) يعم الأنثى والجمع (الفقير) الحر، فإن نفقة المملوك على مالكه والغني في ماله الحاضر ... (قوله الفقير) أي إن لم يبلغ حد الكسب، فإن بلغه كان للأب أن يؤجره أو يدفعه في حرفة ليكتسب وينفق عليه من كسبه لو كان ذكرا، بخلاف الأنثى كما قدمه في الحضانة عن المؤيدية ."
(کتاب الطلاق، باب النفقۃ، 3/ 612 ، ط: سعید)
"المحیط البرہانی" میں ہے:
"و المعنى في ذلك أن النفقة إنما تجب عوضاً عن الاحتباس في بيت الزوج، فإذا كان الفوات لمعنى من جهة الزوج أمكن أن يجعل ذلك الاحتباس باقيًا تقديرًا، أما إذا كان الفوات بمعنى من جهة الزوجة لا يمكن أن يجعل ذلك الاحتباس باقياً تقديرًا، وبدونه لايمكن إيجاب النفقة."
(كتاب النفقات، 4 /170، ط: دار الكتب العلمية)
مجلة الأحكام العدلية میں ہے:
"المادة (1192) كل يتصرف في ملكه كيفما شاء."
(مجلة الأحكام العدلية،الفصل الأول، المادة: 1192، ص230، ط:نورمحمد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144705101136
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن