
انشودہ سننا جائز ہے یا نہیں اس میں کچھ شرائط بھی ہیں؟
واضح رہے کہ دین پاک میں اسبابِ موسیقی کے ساتھ جو بھی شعر یا اس کے ضمن میں کوئی اور چیز ہو وہ شریعت میں حرام ہے، رہی بات ساز ومیوزک کے بغیر انشودہ کے اشعار گانے یا سننے کی تو اس کا اعتبار معنی پر ہوگا،یعنی جو اشعار کفر و شرک یا بے حیائی و گناہ کی باتوں پر مشتمل ہوں ان کا گانا اور سننا بھی حرام ہے، اورجو مباح اشعار اور ایسے اشعار جو حمد و نعت یا حکمت و دانائی کی باتوں پر مشتمل ہوں ان کا ترنم کے ساتھ پڑھنا جائز ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"وقال في تبيين المحارم: واعلم أن ما كان حراما من الشعر ما فيه فحش أو هجو مسلم أو كذب على الله تعالى أو رسوله - صلى الله عليه وسلم - أو على الصحابة أو تزكية النفس أو الكذب أو التفاخر المذموم، أو القدح في الأنساب."
(کتاب الحظر والإباحة، قبیل فصل في اللبس،ج:6،ص:350،ط:سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704102093
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن