بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عمرے پر جانے کی صورت میں بالغ بیٹی کو بہن اور بہنوئی کے گھر چھوڑنے کا شرعی حکم


سوال

میرے اپنےشوہر سے پندرہ سال سے علیحدگی ہوچکی ہے،اس کا ہم سے کوئی رابطہ نہیں ہے،میری ایک بیٹی ہےاور وہ بالغ ہوچکی ہے،میں اب عمرہ پر جانا چاہتی ہوں،میرا بھانجا اور اس کے گھر والے ہمارے ساتھ جارہے ہیں،اب مسئلہ میری بیٹی کا ہے،کہ کیا وہ ہمارے ساتھ جاسکتی ہے یا اس کو میں یہاں اپنے بہن اور بہنوئی کے پاس چھوڑ کر جاؤں یا میں بھی عمرے کا پروگرام کینسل کردوں ؟

میری بیٹی کا اور کوئی محرم نہیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں چونکہ سفر کے لیےآپ کی بیٹی کا کوئی شرعی محرم ساتھ نہیں ہے، اس لیے اسے اپنے ساتھ عمرے پر لے جانا جائز نہیں ہے، نیز آپ کا بہنوئی بھی اس کا محرم نہیں ہے اس لیے بہن کے گھر چھوڑکر جانے میں اگر فتنے کا اندیشہ نہ ہو تو آپ اسے وہاں چھوڑ کر عمرے پر جاسکتی ہیں اور اگر فتنے کا اندیشہ ہو تو احتیاط لازم ہے،ایسی صورت میں یا تو بیٹی کو عمرے پر ساتھ لے جانے کا مناسب انتظام کریں، یا پھر عمرے کا پروگرام مؤخر کر دیں۔

بخاری شریف میں ہے 

"عن ابن عباس رضي الله عنهما، أنه: سمع النبي صلى الله عليه وسلم، يقول: «لايخلونّ رجل بامرأة، ولا تسافرنّ امرأة إلا ومعها محرم»، فقام رجل فقال: يا رسول الله، اكتتبتُ في غزوة كذا وكذا، وخرجت امرأتي حاجةً، قال: «اذهب فحجّ مع امرأتك»".

(كتاب الجهاد،‌‌باب من اكتتب في جيش فخرجت امرأته حاجة أو كان له عذر هل يؤذن له،ج:4،ص:59،ط:دار طوق النجاة)

ترجمہ:  ”عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ  انہوں نے آپ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ فرمارہے تھے: کوئی عورت کسی مرد سے تنہائی میں نہ ملے اور نہ کوئی عورت  بغیر محرم کے سفر کرے، تو حاضرین میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا : اے اللہ کے رسول!  میں نے فلاں جہاد کے سفر میں جانے کے لیے اپنا نام لکھوایا ہے، جب کہ میری بیوی حج کرنے جارہی ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا : جاؤ اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔“

مسلم  شریف میں ہے :

"عن عبد الله بن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «لايحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر، تسافر مسيرة ثلاث ليال، إلا ومعها ذو محرم»"

(کتاب الحج،ج:1،ص:433،ط:قديمي)

ترجمه:”حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالی اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ تین راتوں کی مسافت کے بقدر سفر  کرے، مگر یہ کہ اس کے ساتھ اس کا محرم ہو۔“

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(ومنها المحرم للمرأة) شابةً كانت أو عجوزًا إذا كانت بينها و بين مكة مسيرة ثلاثة أيام، هكذا في المحيط. و إن كان أقل من ذلك حجت بغير محرم، كذا في البدائع. والمحرم الزوج، ومن لايجوز مناكحتها على التأبيد بقرابة أو رضاع أو مصاهرة، كذا في الخلاصة."

(کتاب المناسک، باب اول ج:1،ص:218،ط:دارالفكربيروت)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144704101890

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں