
میرا نام امداد اللہ ہے۔ میں ایک عالمہ لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں اور حق مہر میں عمرہ کروانا چاہتا ہوں۔ ایک رشتہ دار نے کہا کہ نہیں سونا لکھ لو، ایک سے دو تولہ، تمہیں ہمارا رواج کرنا پڑے گا۔
اب سوال یہ ہے کہ عمرہ کروانا حق مہر بن سکتا ہے؟
واضح رہے کہ ایسی منفعت جس کے عوض اجرت لینا جائز ہو اس کو مہر بنانا جائز ہے، لہذا صورت مسئولہ میں سائل اگر عمرہ کے اخراجات کو مہر بنانا چاہتا ہے تو شرعا ایسا کرنا جائز ہے کیونکہ عمرہ پر بھیجنا یعنی جہاز کا سفر، مکہ مدینہ میں قیام ، ایسی منفعت ہے جس کے عوض اجرت وصول کرنا جائز ہے ، لہذا اس کو مہر کے طور پر مقرر کرنا بھی جائز ہے۔نیز اگر عمرہ پر بھیجنے کو مہر مقرر کیا گیا تو پھر سائل پر اوسط قسم کا عمرہ کرانا واجب ہوگا یا اس کے برابر قیمت دینا واجب ہوگا۔
تاہم رشتہ دار کا کہنا کہ سونا ہی مقرر کرنا ضروری ہے اور رواج کو پورا کرنا ہوگا یہ بات درست نہیں ہے، شریعت نے سونے کو مہر مقرر کرنے کی کوئی شرط نہیں لگائی ہے، اصل مدار سائل اور اس کی بیوی (اور اس کے اہل خانہ) کی رضامندی پر ہے، اگر بیوی اس عمرہ کے مہر پر راضی ہے تو اس کو مہر بنادے ورنہ جس پر اتفاق ہوجائے وہ مہر بنادیا جائے۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"ولو تزوجها على منافع سائر الأعيان من سكنى داره وخدمة عبيده وركوب دابته والحمل عليها وزراعة أرضه ونحو ذلك من منافع الأعيان مدة معلومة صحت التسمية؛ لأن هذه المنافع أموال أو التحقت بالأموال شرعا في سائر العقود لمكان الحاجة، والحاجة في النكاح متحققة، وإمكان الدفع بالتسليم ثابت بتسليم محالها إذ ليس فيه استخدام المرأة زوجها فجعلت أموالا والتحقت بالأعيان فصحت تسميتها."
(کتاب النکاح، باب المہر، ج: ۲،ص:۲۷۹، دار الکتب العلمیۃ)
البحر الرائق میں ہے:
"لكن فرق في الخانية بين أن يتزوجها على أن يحج بها وبين أن يتزوجها على حجة فأوجب في الأول مهر المثل وفي الثاني قيمة حجة وسط."
(کتاب النکاح، باب المہر،ج:3،ص:168،دار الکتاب الاسلامی)
خیر الفتاوی میں ہے:
"اگر حج ادا کرادینے کی شرط پر نکاح کیا جائے اور اس حج کرانے کو مہر مقرر کیا جائے تو یہ نکاح ہوجائے گا اور خاوند کے ذمہ حج کی قیمت ہوگی اور حج کی قیمت کا کم و بیش ہوتے رہنا مفسد تسمیہ نہیں۔"
(کتاب النکاح، باب المہر، ج:4،ص: 530، مکتبہ امدادیہ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100231
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن