
میں نے عمرہ کیا، طواف اور سعی سے فارغ ہو کر میں کمرے گیا، اور حلق کرانے سے پہلےکپڑے پہن لیے، اور احرام کھول دیا، پھر ساتھیوں نے بتایا کہ یہ آپ نے کیا کیا ۔ پھر میں نے احرام باندھا اور حلق کرایا ۔ تو کیا اب اس صورت میں مجھے پر دم لازم ہے یا نہیں ؟
صورتِ مسئولہ میں سائل نے اگر طواف اور سعی سے فارغ ہونے کے بعد سر پر استرا پھروانے سے پہلے سلے ہوئے کپڑے پہن لیے تھے اور دن پورا ہونے( بارہ گھنٹوں) سے پہلے پہلے استرا پھروالیا تھا تو اس صورت میں سائل پر دم لازم نہیں ہوگا، تاہم صدقہ فطر کی مقدار گندم یا اس کی قیمت صدقہ کرنا لازم ہوگا، البتہ اگر دن پورا ہونے ( بارہ گھنٹوں) سے زیادہ وقفہ کے بعد استرا پھروایا ہو تو اس صورت میں حدود حرم میں دم ادا کرنا سائل پر لازم ہوگا۔
رد المحتار مع الدر المختار میں ہے:
"(أو لبس مخيطا) لبسا معتادا، ولو اتزره أو وضعه على كتفيه لا شيء عليه (أو ستر رأسه) بمعتاد إما بحمل إجانة أو عدل فلا شيء عليه (يوما كاملا) أو ليلة كاملة، وفي الأقل صدقة (والزائد) على اليوم (كاليوم).
(قوله يوما كاملا أو ليلة) الظاهر أن المراد مقدار أحدهما فلو لبس من نصف النهار إلى نصف الليل من غير انفصال أو بالعكس لزمه دم كما يشير إليه قوله وفي الأقل صدقة شرح اللباب (قوله وفي الأقل صدقة) أي نصف صاع من بر، وشمل الأقل الساعة الواحدة أي الفلكية وما دونها خلافا لما في خزانة الأكمل أنه في ساعة نصف صاع وفي أقل من ساعة قبضة من بر."
(كتاب الحج، باب الجنايات في الحج، ج: 6، ص: 547، ط: سعید)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144711102006
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن