
ایک شخص عمرہ ادا کرنے کی نیت سے پاکستان سے ہوائی جہاز کے ذریعے جدہ روانہ ہوا۔ اسے اس بات کا علم نہیں تھا کہ دورانِ پرواز جہاز میقات سے گزر جائے گا، اسی وجہ سے اس نے جہاز میں احرام نہیں باندھا۔ جب وہ جدہ ائیرپورٹ پہنچا تو اسے معلوم ہوا کہ میقات اس سے پہلے ہی گزر چکا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ :
(1)کیا وہ ہر حال میں دم ادا کرے گا یا کوئی اور راستہ بھی ہے ؟
(2) اگر وہ واپس میقات (مثلا جحفہ یا طائف) جا کر احرام باندھ کر عمرہ ادا کرے تو دم ساقط ہوجائے گا؟
صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی شخص عمرہ کی نیت سے احرام باندھے بغیر میقات سے گزرتےہوئے جدہ ایئرپورٹ پہنچ گیا ہو، تو اس پر حدودِ حرم میں بغیر احرام کے داخل ہونے کی بنا پر دم (یعنی بکری وغیرہ کی قربانی) لازم ہو جاتا ہے۔
البتہ اگر وہ شخص اب واپس اپنی اصل میقات یا کسی قریبی میقات (مثلاً جُحفہ،یا طائف) یا کسی بھی میقات کے محاذات میں جا کر وہاں سے احرام باندھ لے، تو اس کا دم ساقط ہو جائے گا، اور میقات سے احرام باندھنا درست ہوجائے گا۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"ولا یجوز للآفاقی أن یدخل مکة بغیر إحرام نوی النسک أو لا ولو دخلها فعلیه حجة أو عمرۃ کذا فی محیط السرخسی فی باب دخول مکة بغیر إحرام".
( کتاب المناسک، الباب الثانی فی المواقیت،ج:1،ص: 221،ط:رشیدیۃ)
غنیۃ الناسک میں ہے:
"اٰفاقی مسلم مکلف أراد دخول مکة أو الحرم ولو لتجارۃ أو سیاحة وجاوز اٰخر مواقیته غیر محرم ثم أحرم أو لم یحرم أثم ولزمه دم وعلیه العود إلی میقاته الذی جاوزہ أو إلی غیرہ أقرب أو أبعد وإلی میقاته الذی جاوزہ افضل ، وعن ابی یوسف رحمه اللہ تعالی: ان کان الذی یرجع محاذیا لمیقاته الذی جاوزہ أو أبعد منه سقط الدم و إلا فلا، فإن لم یعد ولا عذر له أثم أخریٰ لترکه العود الواجب، فإن کان له عذر کخوف الطریق، أو الإنقطاع عن الرفقة، أو ضیق الوقت أو مرض شاق ونحو ذٰلک فاحرم من موضعه ولم یعد إلیه لم یأثم بترک العود وعلیه الإثم والدم بالاتفاق".
(فصل فی مجاوزة الاٰفاقی وقتہ، ص: 60، ط: ادارة القرآن و العلوم الاسلامیة)
الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے :
"ولا يجوز للإنسان أن يجاوز الميقات إلا محرما بحج أو عمرة، وإلا وجب عليه دم أو العودة إليه".
(المطلب الثانی: میقات الحج والعمرۃ،ج:3،ص:2125،ط:دارالفکر)
فتاوی شامی میں ہے :
"(قوله كما لو جاوزها إلخ) يحتمل عود الهاء إلى مكة فتكون الكاف للتمثيل لأن المكي إذا خرج إلى الحل الذي في داخل الميقات التحق بأهله كما مر آنفا، بشرط أن لا يجاوز ميقات الآفاقي وإلا فهو كالآفاقي لا يحل له دخوله بلا إحرام، كما ذكره في البحر، ويحتمل عودها إلى المواقيت فالكاف للتنظير للمنفي في قوله ما لم يرد نسكا، فإن من أراده من أهل الحل لا يدخل مكة بلا إحرام، ونظيره المكي إذا خرج منها وجاوز المواقيت لا يحل له العود بلا إحرام لكن إحرامه من الميقات بخلاف مريد النسك فإنه من الحل كما علمته."
(كتاب الحج،مطلب في المواقيت،ج:2،ص:278،ط؛سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707100175
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن