بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عمرہ کے ارکان کی ادائیگی کے حلق یا قصرسے پہلے سلا ہوا کپڑا پہننے کا حکم


سوال

اگر کوئی شخص عمرہ کر کے بیمار ہو گیا اور ہسپتال لے جایا گیا احرام اتار دیا گیا ، اور بال نہیں کٹوائے  تواس کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے عمرہ کے ارکان ادا کرنے کے بعد احرام کھولنے کےلئے استرا  پھروانا یا  انگلی کے پورے کے بقدر چوتھائی بالوں کا  کاٹنا ضروری ہے،اگر کوئی شخص بال منڈوانے یا کتروانے سے  پہلے سلے ہوئے کپڑے پہن لے تو اگر ایسے شخص نے آدھے دن(12 گھنٹے) سے قبل  استرا پھروالیا تو اس پر دم لازم نہیں ہوگا،البتہ صدقہ فطر کی مقدار گندم یا اس کی قیمت صدقہ کرنا لازم ہوگا،اور اگر آدھے دن(12گھنٹے ) سے قبل اس نے استرا  نہیں پھروایا تو اس پر دم لازم ہوگا۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص نے آدھا دن گزرنے سے قبل حلق یا قصر کروالیا ہو تو دم ساقط ہوجائے گا اور صدقہ دینا لازم ہوگا، اور اگر آدھا دن  گزرنے تک سلا ہوا کپڑا پہنا رہا اور اس کے بعد حلق یا قصر کروایا تو اس صور ت میں حدود حرم میں ایک دم دینا لازم ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

" إذا لبس المحرم المخيط على الوجه المعتاد يوما إلى الليل فعليه دم، وإن كان أقل من ذلك فصدقة كذا في المحيط سواء لبسه ناسيا أو عامدا عالما أو جاهلا مختارا أو مكرها هكذا في البحر الرائق."

(كتاب المناسك،الباب الثامن في الجنايات،الفصل الثاني في اللبس،ج: 1،ص: 267،ط: دار الكتب العلمية)

مبسوط  سرخسی میں ہے:

"وكذلك لو لبس قميصا أو سراويل أو قلنسوة يوما إلى الليل فعليه دم، وإن كان فيما دون ذلك ‌فعليه ‌صدقة كما بينا، وإنما أراد بهذا إذا لبسه على الوجه المعتاد أما إذا ائتزر بالسراويل أو ارتدى بالقميص أو اتشح به فلا شيء عليه؛ لأنه يحتاج إلى تكلف حفظه على نفسه عند اشتغاله بالعمل فلا يكون لابسا للمخيط."

(كتاب المناسك،باب ما يلبسه المحرم من الثياب،ج: 4،ص: 126،ط: دار المعرفة)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144709100892

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں