بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 محرم 1448ھ 29 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عمرہ کرنے کے بعد مدینہ منورہ سے واپسی پر حج قران کی نیت کرنا


سوال

ایک آدمی ایک ذیقعدہ کو حج کے لیے روانہ ہوا ،اور عمرہ کیا اور احرام اتار دیا اس کےبعد ۲۴ ذیقعدہ کو مدینہ گیا، اور ۴ذی الحج کو مدینہ سے مکہ حج کے ارادہ سےحج قران کا احرام باندھا۔ تو اس طرح کرناشرعا  کیسا ہے؟  رہنما ئی  فرمائے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص نے عمرہ کرنے کے بعد جب احرام اتاردیا اور حلال ہوگیا اس کے بعد وہ مدینہ منورہ گیا ،اب واپسی پر حج قرآن کا احرام نہیں باندھ سکتاہے ۔کیونکہ اس نے جب اشہر حج میں عمرہ کیا اور حلال ہوگیاتو  امام ابوحنیفہ کے نزدیک  ان کا حج حج  تمتع ہوا ،اور اس کا حج تمتع اس   وقت تک باطل نہیں ہوتاہے جب تک وہ اپنے گھر واپس نہ چلاجائے ۔جب اس کا حج تمتع باطل نہیں ہو اتو اس کے لیے حج قران کا احرام باندھنا جائز نہیں ہے ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(كوفي) أي آفاقي(حل من عمرته فيها) أي الأشهر (وسكن بمكة) أي داخل المواقيت (أو بصرة) أي غير بلده (وحج) من عامه (متمتع) لبقاء سفره.

(قوله أي آفاقي) أشار به إلى أن ذكر الكوفي مثال وأن المراد به من كان خارج الميقات لأن المكي لا تمتع له كما مر (قوله حمرته فيها) لأنه لو اعتمر قبلها لا يكون متمتعا اتفاقا نهر (قوله أي داخل المواقيت) أشار إلى أن ذكر مكة غير قيد، بل المراد هي أو ما في حكمها (قوله أي غير بلده) أفاد أن المراد مكان لا أهل له فيه سواء اتخذه دارا بأن نوى الإقامة فيه خمسة عشر يوما أو لا كما في البدائع وغيرها، وقيد به لأنه لو رجع إلى وطنه لا يكون متمتعا اتفاقا أيضا إن لم يكن ساق الهدي نهر (قوله لبقاء سفره) أما إذا أقام بمكة أو داخل المواقيت فلأنه ترفق بنسكين في سفر واحد في أشهر الحج وهو علامة التمتع

وأما إذا أقام خارجها فذكر الطحاوي أن هذا قول الإمام. عندهما لا يكون متمتعا لأن المتمتع من كانت عمرته ميقاتية وحجته مكية وله أن حكم السفر الأول قائمل من ع ما لم يعد إلى وطنه."

(کتاب الحج ، باب التمتع، ج: 2، ص: 241، 242، ط: ایچ ایم سعید)

غنیۃ الناسک میں ہے:

"وکذا لو خرج إلی الآفاق لحاجة فقرن لا یکون قارناً عند أبي حنیفة، وعلیہ رفض أحدھما ولا یبطل تمتعه؛ لأن الأصل عندہ أن الخروج في أشھر الحج إلی غیر أھله کالإقامة بمکة فکأنه لم یخرج وقرن من مکة."

(باب التمتع ، فصل فی کیفیة أداء التمتع المسنون   ص:343، 344 ، ط: ادارۃ القرآن ) 

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144711101226

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں