بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مووی تصاویر سے روکنے کی غرض سےنکاح خواں کا عام معمول سے زیادہ اجرت مقرر کرنا


سوال

نکاح خواں کا غیر شرعی خرافات جیسے وڈیو اور فوٹوز سے اجتناب کروانے کے لئے نکاح پڑھانے کی اجرت ۵۰۰۰ روپے طےکرنا شرعی حیثیت سے کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ نکاح پڑھانے  کی اجرت نکاح خواں  کا حق ہے، اور وہ نکاح پڑھوانے والے کی رضامندی سے اجرت مقرر کر سکتا ہے، نیز نکاح پڑھانے والے کو یہ حق  بھی حاصل ہے کہ وہ اگر کسی مجلس میں شرعی خلاف ورزی ہو رہی ہو، تو وہاں نکاح نہ پڑھائے،  بلکہ وہ اس موقع کو دعوت و اصلاح کے لیے استعمال کرے،  البتہ جس   طرح معاشرہ میں پائی جانے والی دیگر  بدعات  وخرافات سے روکنے کے لیے وعظ و نصیحت کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے اسی طرح   شادی بیاہ میں ہونے والے غیر شرعی امور مثلاً مووی تصاویرگانا بجانا وغیرہ  سے روکنے کے لیے  بھی  وعظ و نصیحت  کا طریقہ اختیار کیا جائے ۔غیر شرعی خرافات  سے روکنے کی غرض سے نکاح خوانی کی اجرت  عام معمول سے زیادہ مقرر کرنا یہ نہی عن المنکر  کا طریقہ نہیں، اور نہ ہی یہ طریقہ برائی روکنے کےلیے  مؤثر ہے، لہذا  اس سے اجتناب کیا جائے اور معروف طریقہ سے نہی عن المنکر کیا جائے۔

 مشکاۃ المصابیح میں ہے:

عن أبي سعيد الخدري عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «‌من ‌رأى ‌منكم ‌منكرا فليغيره بيده فإن لم يستطع فبلسانه فإن لم يستطع فبقلبه وذلك أضعف الإيمان. رواه مسلم"

(‌‌كتاب الآداب، ‌ باب الأمر بالمعروف، جؒ3، ص:1421، ط:المكتب الإسلامي) 

ترجمہ: حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ  وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" تم میں سے جو شخص کسی خلافِ شرع امر کو دیکھے تو اس کو چاہیے کہ اس چیز کو اپنے ہاتھوں سے بدل ڈالے اور اگر وہ( خلافِ شرع امر کے مرتکب کے زیادہ قوی ہونے کی وجہ سے یا بزورِ طاقت روکنا خلافِ مصلحلت ہونے کی وجہ سے ہاتھوں کے ذریعہ )اس امر کو انجام دینے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو زبان کے ذریعہ اس امر کو انجام دے  اور اگر اس کی بھی  طاقت نہ رکھتا ہو تو اس کو دل سے برا جانے  اور یہ (آخری درجہ) ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔‘‘ 

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وفي فتاوى النسفي إذا كان القاضي يتولى القسمة بنفسه حل له أخذ الأجرة وكل نكاح باشره القاضي وقد وجبت مباشرته عليه كنكاح الصغار والصغائر فلا يحل له أخذ الأجرة عليه، وما لم تجب مباشرته عليه حل له أخذ الأجرة عليه، كذا في المحيط."

(كتاب ادب القاضي، الباب الخامس عشر في أقوال القاضي وما ينبغي للقاضي أن يفعل، ج:3، ص:345، ط دار الفكر بيروت)

کفایت المفتی میں ہے:

’’نکاح خوانی کی اجرت کی شرعی حیثیت:

سوال: نکاح پڑھانے والے کو کچھ روپیہ نقد دینا سنت ہے یا مستحب؟ اور  نکاح پڑھانے والا نکاح پڑھانے سے پہلے کچھ نقد روپیہ مقرر کرے تو یہ جائز ہے یا نہیں؟ اور پھر جبراً وصول کرسکتا ہے یا نہیں؟   

جواب: نکاح پڑھانے والے کو نکاح خوانی کی اجرت دینا جائز ہے،  اور نکاح خواں پہلے اجرت مقرر کرکے  نکاح پڑھائے تو  یہ بھی جائز ہے،  اور اس کو مقرر شدہ اجرت جبراً وصول کرنے کا حق ہے‘‘۔

(کتاب النکاح، ج:5، ص:150، ط: دارالاشاعت) 

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144612100881

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں