
اگر کوئی خاتون طلاق مغلظہ کی عدت کے بعد اپنے شوہر کے گھر میں ایگ کمرہ میں رہنا چاہے تو اس کا کیا طریقہ کار ہوسکتا ہے؟
صورت حال یہ ہے کہ مرد عورت دونوں قریب پچاس سال کی عمر کو پہنچ چکے ہیں،اور دونوں کے بچے بچیاں بھی جوان ہیں۔
وضاحت:
گھر چار منزلہ ہےشوہر کا الگ کمرہ ہے،اور ماں اور بچوں کا الگ کمرہ ہے،بڑی بیٹی کی عمر 17 سال ہے،چھوٹی 15 سال کی ہے،اور اس سے چھوٹی بیٹی 9 سال کی ہے،جبکہ بیٹا 6 سال کا ہے۔
واضح رہے کہ اگر تین طلاقیں ہوگئیں ہیں،تو میاں بیوی ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہوگیے ہیں، اور تین طلاقوں کے بعد مرد و عورت کا ایک ساتھ رہنا شرعا جائز نہیں ہے، البتہ اگر دونوں عمر رسیدہ ہوں اور ان کی جوان اولاد ہو ،جس کی وجہ سے تنہا نہ رہ سکتے ہوں اور ان کا مکان اتنا بڑاہے کہ دونوں اس میں جوان اولاد کے ساتھ پردہ کا خیال کرتے ہوئے اجنبیوں کی طرح الگ الگ اس طرح رہ سکتے ہوں کہ دونوں کے کمرے الگ ہوں، اور ان کا آمنا سامنا نہ ہو، اور گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو مذکورہ طریقہ سے وہ ایک مکان میں اپنی جوان اولاد کے ساتھ رہ سکتے ہیں،اور اس صورت میں مرد اپنی مطلقہ بیوی کے ہاتھ کا کھانا بھی کھا سکتا ہے۔
بصورت مسئولہ دونوں کا ایک کمرے میں رہنا جائز نہیں، البتہ اگر پردے کے ساتھ، سامنے آئے بغیر ایک گھر میں رہ سکتے ہیں تو جائز ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"ولهما أن يسكنا بعد الثلاث في بيت واحد إذا لم يلتقيا التقاء الأزواج، ولم يكن فيه خوف فتنة انتهى.
وسئل شيخ الإسلام عن زوجين افترقا ولكل منهما ستون سنة وبينهما أولاد تتعذر عليهما مفارقتهم فيسكنان في بيتهم ولا يجتمعان في فراش ولا يلتقيان التقاء الأزواج هل لهما ذلك؟ قال: نعم، وأقره المصنف.
(قوله: وسئل شيخ الإسلام) حيث أطلقوه ينصرف إلى بكر المشهور بخواهر زاده، وكأنه أراد بنقل هذا تخصيص ما نقله عن المجتبى بما إذا كانت السكنى معها لحاجة، كوجود أولاد يخشى ضياعهم لو سكنوا معه، أو معها، أو كونهما كبيرين لا يجد هو من يعوله ولا هي من يشتري لها، أو نحو ذلك."
(كتاب الطلاق، باب العدۃ، فصل في الحداد، 3 /538، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101382
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن