
1۔میں ایک جوان بیوی کا شوہر ہوں اور عمر رسیدہ بھی ہوں، لیکن الحمد للہ حقِ زوجیت ادا کرنے میں مجھے کوئی مشکل نہیں۔ کیا میں خضاب استعمال کر سکتا ہوں؟
2۔اگر جواب ہاں میں ہے تو براہِ کرم موجودہ دور میں پاکستان میں دستیاب کسی ایسے برانڈ کی نشاندہی فرما دیجیے جو میرے اطمینانِ قلب کا باعث بھی ہو اور مجھے وساوس سے بھی محفوظ رکھے۔
1۔ واضح رہے کہ خالص سیاہ خضاب مردوں اور عورتوں، دونوں کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں ہے، حدیث مبارکہ میں ایسے لوگوں کے بارے میں سخت وعید آئی ہے،البتہ خالص سیاہ رنگ کے علاوہ کسی بھی رنگ (مثلاً سرخ، سیاہی مائل رنگ،ڈارک یا لائٹ براؤن وغیرہ ) سےاپنے بالوں کو رنگنا جائز ہے۔لہذا بیوی کی خوشنودی کے لیے ایسا خضاب جو خالص سیاہ نہ ہو، بلکہ سیاہی مائل مثلاً سرخ، گہرا یا ہلکا کتھئی (براؤن ) رنگ وغیرہ کا ہو ، اس کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔
2۔دارالافتاء میں صرف شرعی مسائل کے لیے رجوع فرمائیں ،ایسی مصنوعات کے حوالے سےکسی ماہرِسے رجوع فرمائیں۔
حدیث مبارک میں ہے:
"عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «يكون قوم يخضبون في آخر الزمان بالسواد، كحواصل الحمام، لا يريحون رائحة الجنة."
حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: آخری زمانہ میں کچھ لوگ ہوں گے جو سیاہ خضاب لگائیں گے جیسے کبوتر کا سینہ ان لوگوں کو جنت کی خوشبو بھی نصیب نہ ہوگی۔
(سنن أبي داود، باب ما جاء فی خضاب السواد، کتاب الترجل، ج:2، ص: 226، ط: رحمانیة)
فتاوی شامی میں ہے:
"يستحب للرجل خضاب شعره ولحيته ولو في غير حرب في الأصح، والأصح أنه - عليه الصلاة والسلام - لم يفعله، ويكره بالسواد، وقيل لا مجمع الفتاوى والكل من منح المصنف.
(قوله: ويكره بالسواد) أي لغير الحرب. قال في الذخيرة: أما الخضاب بالسواد للغزو، ليكون أهيب في عين العدو فهو محمود بالاتفاق وإن ليزين نفسه للنساء فمكروه، وعليه عامة المشايخ."
(کتاب الحظر والاباحة،ج:6، ص: 422، ط: سعید)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"اتفق المشايخ رحمهم الله تعالى أن الخضاب في حق الرجال بالحمرة سنة وأنه من سيماء المسلمين وعلاماتهم وأما الخضاب بالسواد فمن فعل ذلك من الغزاة ليكون أهيب في عين العدو فهو محمود منه، اتفق عليه المشايخ رحمهم الله تعالى ومن فعل ذلك ليزين نفسه للنساء وليحبب نفسه إليهن فذلك مكروه وعليه عامة المشايخ."
(الباب العشرون في الزينة واتخاذ الخادم للخدمة، کتاب الکراهية،ج:5، ص: 359، ط: رشیدیة)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144711101589
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن