بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 محرم 1448ھ 09 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

عمر رسیدہ عورتوں کے لیے پردہ کا حکم


سوال

کیا عمر رسیدہ عورت بغیر پردہ کے گھوم سکتی ہے؟

جواب

عمر رسیدہ عورت، جس کی عمر نکاح کی میعاد سے تجاوز کر گئی ہو، وہ اگر غیرمحرم کے سامنے چہرہ کھول دے بشرطیکہ زینت کا اظہار نہ ہو تو اس کی گنجائش ہے، البتہ باقی بدن کا پردہ اس پر بھی لازم ہوگا، تاہم اس کے باوجود عورت غیر محرم اجنبی مرد سے اپنے چہرے کا پردہ کرے تو یہ اس کے حق میں بہتر ہے۔

قرآن مجید میں ہے:

"وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا يَرْجُونَ نِكَاحًا فَلَيْسَ عَلَيْهِنَّ جُنَاحٌ أَن يَضَعْنَ ثِيَا بهنَّ غَيْرَ مُتَبَرِّجَاتٍ بِزِينَةٍ  وَأَن يَسْتَعْفِفْنَ خَيْرٌ لَّهُنَّ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ"
[ سورة النور: 60]

ترجمہ: "اور بڑی بوڑھی عورتیں  جن کو  ( کسی کے) نکاح میں آنے کی کچھ امید نہ رہی ہو انکو (البتہ )اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ وہ اپنے (زائد) کپڑے اتار رکھیں بشرط یکہ زینت ( کے مواقع کا اظہار نہ کریں اور ( ہر چند کہ بڑی بوڑھیوں کو منہ کھولنے کی اجازت ہے لیکن اگر ) اس سے بھی احتیاط رکھیں تو ان کے لئے اور زیادہ بہتر ہے اور اللہ تعالی (سب کچھ) سنتا ہے (سب کچھ جانتا ہے ۔ "

(بیان القرآن ،سورہ نور، آیت: 60، ج:2،ص: 590 ، ط:مکتبہ  رحمانیہ)

تفسیر ابن کثیر میں ہے: 

"وقوله: {والقواعد من النساء} قال سعيد بن جبير، ومقاتل بن حيان، والضحاك، وقتاده: هن اللواتي انقطع عنهن الحيض ويئسن من الولد {اللاتي لايرجون نكاحاً} أي لم يبق لهن تشوف إلى التزوج {فليس عليهن جناح أن يضعن ثيابهن غير متبرجات بزينة} أي ليس عليها من الحرج في التستر كما على غيرها من النساء ... وقوله: {وأن يستعففن خير لهن} أي وترك وضعهن لثيابهن وإن كان جائزاً خير وأفضل لهن والله سميع عليم".

(سورۃ النور، آية: 69، ج:6، ص: 77، 76، 75، ط: دارالكتب العلمية)

أحكام القرآن للجصاص  میں ہے:

"قال الله تعالى: {فليس عليهن جناح أن يضعن ثيابهن غير متبرجات بزينة وأن يستعففن خير لهن} [النور:60] فأباح الأمرين وجعل أحدهما أولى"

(ج:3، ص: 152، ط: دار الكتب العلمية بيروت - لبنان)

امداد الفتاوی میں ہے:

"جہاں فتنہ کا احتمال نہ ہو، جیسے ساٹھ ستر برس کی بڑھیاتو اس پر یہ حکم  بھی واجب نہیں  اور اگر پردہ نہ کرے توگنہگار نہ ہوگی ،ہاں تارکِ سنت ہے ۔"

(ج: 4، ص: 180،  ط: مکتبہ دار العلوم کراچی)

بذل المجهود في حل سنن أبي داود میں ہے:

"بابٌ: في قوْلِه تعالى: {وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ} 

(حدثنا أحمد بن محمد المروزي، نا علي بن الحسين بن واقد، عن أبيه، عن يزيد النحوي، عن عكرمة، عن ابن عباس) في قوله تعالى: ({وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ}) أي: قل يا محمد لمن آمن بك "من" المؤمنات (يغضضن) وهو خبر بمعنى الأمر (من أبصارهن) أي: من نظرهن، وقيل: من للتبعيض، والمراد غض البصر عما يحرم دون ما لا يحرم (الآية، فنسخ) بصيغة المجهول، أي من هذه الآية من غض بصر المؤمنين والمؤمنات جواز البصر إلى القواعد من النساء.

(واستثني من ذلك) النظر إلى ({وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ}) والمراد من القواعد من النساء اللاتي قعدن عن الحيض والولد لكبرها ({اللَّاتِي لَا يَرْجُونَ نِكَاحًا}) أي: لا يطمعن فيه من الكبر (الآية) (2) وهي: {فَلَيْسَ عَلَيْهِنَّ جُنَاحٌ أَنْ يَضَعْنَ ثِيَابَهُنَّ}، يعني الثياب الظاهرة كالملحفة والجلباب التي فوق الخمار، {غَيْرَ مُتَبَرِّجَاتٍ بِزِينَةٍ} أي: قاصدات بوضع الثياب التبرج بالزينة."

(بابٌ: في قولِه تعالى: {وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ ،ج:12، ص: 139،ط:مركز الشيخ أبي الحسن الندوي للبحوث والدراسات الإسلامية، الهند)

حاشية ابن عابدين میں ہے:

"في الشفاء عن الكرميني العجوز الشوهاء والشيخ الذي لا يجامع مثله بمنزلة المحارم اهـ."

 (كتاب الحظر والإباحة،فصل في النظر والمس،ج:6، ص: 368، ط:دار الفكر - بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711102050

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں