بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

قے ہوجانے سے روزہ ٹوٹ جانے کے گمان سے کچھ کھا پی لینے کا حکم


سوال

اگر کسی شخص کو رمضان کے روزے کے دوران قے ہوجاۓ، اور وہ یہ سمجھے کہ روزہ ٹوٹ گیا ہے ،اور کچھ کھا پی لے، تو کیا صرف قضا واجب ہوگی یا کفارہ بھی؟

جواب

روزہ کی حالت میں اگر کسی کو خود بخود قے ہوجائے اور وہ اس کے بعد یہ سمجھ کر کچھ کھالے یا پی لے  کہ روزہ فاسد ہوگیا ہے،تو اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا اور قضاء لازم ہوگی، کفارہ لازم نہیں ہوگا۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"ولو أكل أو شرب أو جامع ناسيا أو ذرعه القيء فظن أن ذلك يفطر فأكل بعد ذلك متعمدا، فعليه القضاء ولا كفارة عليه، لأن الشبهة ههنا استندت إلى ما هو دليل في الظاهر لوجود المضاد للصوم في الظاهر وهو الأكل والشرب والجماع حتى قال مالك بفساد الصوم بالأكل ناسيا، وقال أبو حنيفة: لولا قول الناس لقلت له يقضي."

(‌‌كتاب الصوم،‌‌فصل حكم فساد الصوم،ج: 2،ص: 100،ط: دار الكتب العلمية)

النتف فی الفتاوی میں ہے:

"والسابع رجل قاء فظن أنه فطره فأكل،والثامن رجل اغتاب فظن أنه فطره فأكل،والتاسع رجل أكل ناسيا فظن أنه فطره فأكل.فإن صوم هؤلاء يفسد وعليهم القضاء دون الكفارة وعليهم أن يمتنعوا بقية يومهم عن الأكل إذا علموا وليسوا بصائمين."

(‌‌كتاب الصوم،‌‌مطلب اكل الشبهة،ج: 1،ص: 150،ط: مؤسسة الرسالة)

فتح القدیر میں ہے:

"(ولو احتجم وظن أن ذلك يفطره ثم أكل متعمدا عليه القضاء والكفارة) لأن الظن ما استند إلى دليل شرعي.

(قوله لأن الظن ما استند إلى دليل شرعي) يعني: فيما إذا لم يبلغه الحديث لأن القياس لا يقتضي ثبوت الفطر مما خرج، بخلاف ما لو ذرعه القيء فظن أنه أفطر فأكل عمدا فإنه كالأول لا كفارة عليه.

فإن القيء يوجب غالبا عود شيء إلى الحلق لتردده فيه فيستند ظن الفطر إلى دليل."

(‌‌كتاب الصوم،فصل ومن كان مريضا في رمضان،ج: 2،ص:276،ط: دار الفكر)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144709101458

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں