بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

UIF ادارے کے ذریعہ امریکہ میں قسطوں پر مکان خریدنا


سوال

امریکہ میں یک مشت رقم کی ادائیگی کر کے اپنا ذاتی گھر لینا انتہائی مشکل امر ہے، تو کیا UIF کے ذریعے اپنا ذاتی گھر لینا جائز ہے؟

UIF دراصل ایک امریکن مالیاتی سروس کمپنی ہے جو دعوی کرتے ہیں کہ ان کے پروگرام عقیدے پر مبنی مالیاتی اصولوں کی پابندی کرتے ہیں اور یہ آزاد شریعہ سپروائزری بورڈ سے مکمل طور پر منظور شدہ ہے،  UIF والوں کا معاہدہ یوں ہوتا ہے کہ یہ خریدار کے ساتھ مشارکتی معاہدہ کرتے ہیں جس میں UIF والے گھر خریدتے ہیں اور خریدار کچھ ڈاؤن پیمنٹ ادا کرتا ہے اور خریدا ہر ماہ قسط کی رقم جو طے پاتی ہے ادا کرتا ہے اس کے ساتھ ہر ماہ کرایہ بھی ادا کرتا ہے، جو مقرر نہیں ہوتا، ہر ماہ کم یا زیادہ ہو سکتا ہے اور جب اقساط  مکمل ہو جاتی ہیں تو گھر خریدار کا ہو جاتا ہے، تو کیا اس معاہدے کی بنا پر گھر خریدنا جائز ہے؟

وضاحت: UIF امریکہ میں رہنے والے مسلمانوں کو اسلامی شریعت کے مطابق مالیاتی حل فراہم کرتا ہے، یعنی: جو مسلمان امریکہ میں مقیم ہیں اور گھر یا گاڑی خریدنا چاہتے ہیں تو یہ ادارہ سود سے بچا کر اسلامی اصولوں کے مطابق ان کی مدد کرتا ہے۔

جواب

سوال میں مذکورہ ادارے سے گھر لینے کی جو صورت ذکر کی گئی ہے اس صورت کو اختیار کرتے ہوئے مذکورہ ادارے سے مکان خریدنا جائز نہیں ہے، اس لیے کہ اس طرح گھر لینے کے معاملہ میں شریعت  کی خلاف ورزی لازم آتی ہے، وہ یہ کہ اس معاملہ میں گھر لیتے وقت  بیک وقت دو عقد ایک ہی ساتھ کیے جاتے ہیں ،  ایک معاملہ بیع (خرید و فروخت) کا ہوتا ہے جس کی بناء پر قسطوں کی شکل میں ادائیگی خریدار پر واجب ہوتی ہےاور دوسرا معاملہ اجارہ ( کرایہ داری) کا ہوتا ہے جس کی بناء پر  ہر ماہ ادارہ کرائے کی مد میں خریدار سے کرایہ بھی وصول کرتا ہے اور جس دن گھر کی قیمت  کی ادائیگی پوری ہوجاتی ہے تو یہ گھر خود بخود خریدار کی ملکیت میں آجاتا ہے اور یہ دونوں عقد صورتاً یا حکماً ایک ساتھ ہی کیے جاتے ہیں جو کہ شرعاً ناجائز ہیں؛ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی وقت میں دو عقد کرنے سے منع فرمایا ہے۔

دوسری خرابی یہ ہے کہ سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق  اس معاملہ میں مکان کا کرایہ بھی متعین نہیں ہوتا اور کرایہ داری کے معاملہ میں اگر کرایہ متعین نہ ہو تو معاملہ فاسد ہو جاتا ہے۔

یہ دو  خرابیاں  ہیں جن کا ذکر سوال میں ہوا، ممکن ہے کہ شرائط نامہ اور اصول و ضوابط کو دیکھنے سے مزید شرعی خرابیاں بھی سامنے آئیں، اس لیے مذکورہ ادارے سے مکان خریدنے سے اجتناب کرنا لازم ہے۔

ترمذی شریف میں ہے:

"عن أبي هريرة قال : نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ‌بيعتين ‌في ‌بيعة."

(أبواب البيوع ، باب ما جاءفي النهي عن بيعتين في بيعة ،364/1 ، ط:  رحمانية)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ومنها أن تكون ‌الأجرة ‌معلومة."

(كتاب الإجارة ، الباب الأول تفسير الإجارة وركنها وألفاظها وشرائطها ج : 4 ، ص : 411 ، ط : رشيدية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701101422

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں