
میرا کاروبار کرنسی ایکسچینج کا ہے۔ میں بیرونِ ملک موجود افراد کو غیر ملکی کرنسی فروخت کرتا ہوں اور اس کے بدلے پاکستان میں پاکستانی روپے وصول کرتا ہوں۔مثال کے طور پر، میں نے ایک شخص کو 10,000 درہم 77 روپے فی درہم کے حساب سے فروخت کیے، تو وہ مجھے پاکستان میں 770,000 پاکستانی روپے ادا کرے گا۔
میرا سوال یہ ہے کہ اگر میں کسی گاہک کو 10,000 درہم دے دوں، لیکن وہ یہ کہے کہ میں آپ کو پاکستانی روپے ایک ہفتے بعد ادا کروں گا، تو کیا میں اس ایک ہفتے کی مہلت کی وجہ سے اسے 79 روپے فی درہم کے حساب سے فروخت کر سکتا ہوں؟ یعنی ادائیگی مؤخر ہونے کی بنا پر فی درہم قیمت بڑھا دینا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
دو مختلف ممالک کی کرنسیاں، جیسے درہم اور پاکستانی روپے، شرعاً مختلف اجناس کے حکم میں ہیں۔ اس لیے ان کی باہمی خرید و فروخت میں اگر معاملہ نقد ہو، یعنی مجلسِ عقد ہی میں دونوں جانب سے قبضہ ہو جائے، تو کمی بیشی کے ساتھ لین دین جائز ہے۔ چنانچہ 10,000 درہم کو 77 روپے، 79 روپے یا اس سے کم و بیش کسی بھی باہمی رضامندی سے طے شدہ ریٹ پر فروخت کرنا شرعاً درست ہے، بشرطیکہ دونوں فریق ایک ہی مجلس میں اپنی اپنی کرنسی پر قبضہ کر لیں۔
البتہ اگر ایک فریق درہم فوراً دے دے اور دوسرا فریق اس کے بدلے پاکستانی روپے ایک ہفتے بعد ادا کرے، تو یہ عقدِ صرف میں ادھار ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور حرام ہے، کیونکہ کرنسیوں کے تبادلے میں ایک جانب سے بھی ادھار کی اجازت نہیں۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں ایک ہفتے کی مہلت کی بنا پر 77 روپے کے بجائے 79 روپے فی درہم کے حساب سے معاملہ کرنا بھی جائز نہیں، کیونکہ اصل عقد ہی ادھار ہونے کی وجہ سے فاسد ہے۔ مزید یہ کہ مدت یا مہلت کے عوض قیمت میں اضافہ کرنا ایک مزید ناجائز امر ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
( باع فلوسا بمثلها أو بدراهم أو بدنانير فإن نقد أحدهما جاز ) وإن تفرقا بلا قبض أحدهما لم يجز لما مر."
(كتاب البيوع، باب الربا، ص: 432، ط: دار الكتب العلمية بيروت)
"اسلامی معیشت کے بنیادی اصول "میں ہے:
"آج کل مختلف ملکوں کے سکے تبادلہ ہوتاہے، مثلاً:سعودی ریال کا تبادلہ پاکستانی روپیوں سے ہوتاہے،ڈالر کا تبادلہ پاکستانی روپیوں سے ہوتاہے۔۔۔تو ان سب صورتوں میں کمی وزیادتی جائز ہے، مثلاً ایک ریال کے بدلے خواہ پانچ روپے یاچھ روپے یا اس سے کم وبیش لئے جاویں ، تو ازروئے شرع جائز ہے، کیوں کہ دومختلف ملکوں کے سکے ازروئے اصولِ شرع دومختلف جنس کی طرح ہیں ۔۔۔جب کہ معاملہ ہاتھ در ہاتھ ہو،ادھارنہ فروخت کیا جاتاہو۔۔۔الخ"
(مختلف ممالک کے سکوں کا تبادلہ،ص:202/ 203،ط:اسلامی کتب خانہ)
فتاوی حقانیہ میں ہے:
"مختلف ممالک کی کرنسی کی تجارت کا حکم"
سوال:آج کل صرف بازارمیں ایک ملک کی کرنسی کو دوسرے ملک کی کرنسی سے زیادہ داموں بیچنے کا رواج عام ہے،مثلاًایک آدمی نے امریکی ڈالرایک دن قبل پچاس روپے کالیاہے،اب وہ اس کو پچپن ورپیہ میں فروخت کرتاہے،توکیا ایساکرنا شرعاًجائز ہےیانہیں؟
جواب:دوملکوں کی کرنسی چوں کی مختلف الاجناس اشیاء میں داخل ہے،اور اسی وجہ سے ان کے نام کی اکائیاں وغیرہ مختلف ہوتی ہیں اور مختلف الاجناس اشیاء کو تفاضل کے ساتھ بیچنا جائز ہے،لہذا ایک ملک کی کرنسی کو دوسرے ملک کی کرنسی سےتفاضل کے ساتھ فروخت کرناجائز ہے۔قال العلامہ الحصکفی رحمہ اللہ :وإن عدما۔۔۔حلا،كھروي بمرويين لعدم العلةفبقي علي أصل الإباحة ،وإن وجد أحدهماأي القدروحده أوالجنس حل الفضل وحرم النساء ولومع التساوي،(الدرالمختارعلي صدرردالمحتار،ج:5،ص:172،باب الربوٰ،مطلب فی الابراء عن الربا)۔"
(فتاوی حقانیہ،ج:6،ص:104/ 105،ط:جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144802100866
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن