بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ادھار فروخت کردہ زمین کی رقم پر زکات کا حکم


سوال

اگر کسی نے اپنی زمین ادھار  پر فروخت کی، لیکن ابھی تک اس زمین کی رجسٹریشن خریدار کے نام نہیں ہوئی ۔ خریدار پوری رقم ایک ساتھ ادا نہیں کرتا بلکہ وقتاً فوقتاً تھوڑی تھوڑی رقم ادا کرتا رہتا ہے، ایسی صورت میں جب فروخت کرنے والا (بائع) زکات کا حساب کرے تو کیاباقی رہ جانے والی ادھار رقم کو بھی اپنے مال میں شامل کرکے اس کی زکات ادا کرےگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب بائع نے اپنی زمین باہمی رضامندی سے فروخت کرکے خریدار کو قبضہ بھی دے دیا تو شرعاً خریدار زمین کا مالک بن چکا ہے، اگرچہ ابھی رجسٹری یا انتقال مکمل نہ ہوا ہو،کیوں کہ   شرعاً ملکیت کا ثبوت  رجسٹری  پر موقوف نہیں ہے۔

لہٰذا مذکورہ صورت میں  زمین کی جو قیمت خریدار کے ذمہ باقی ہے وہ بائع کے حق میں دَینِ قوی شمار ہوگی،اورخریدار سے قسطوں کی صورت میں جتنی رقم وصول ہوتی جائے بائع اس کے حساب سے زکات ادا کرتا رہے، بشرط یہ کہ یہ وصول شدہ  رقم تنہا یا اس دوسرے مال کے ساتھ جو پہلے سے  بائع کی ملکیت میں موجود ہو مل کر نصاب کی مقدار کو پہنچ جائے۔

جبکہ غیر وصول شدہ باقی رقم کی زکات کی ادائیگی فی الحال بائع پر لازم نہیں ہوگی، البتہ جب مکمل رقم وصول ہو جائے، اور جتنے سال گزرچکے ہوں ، تو بائع  کے ذمہ  ان گذشتہ سالوں کی زکات بھی ادا کرنا ضروری ہوگا۔

نیز اگربائع پوری متوقع رقم کی زکات حساب کرکے وصولی سے پہلے ادا کردے تویہ  بھی جائز ہے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"فمبادلة المال بالمال بالتراضي كذا في الكافي وأما ركنه فنوعان أحدهما الإيجاب والقبول ۔۔۔ وأما حكمه فثبوت الملك في المبيع للمشتري وفي الثمن للبائع إذا كان البيع باتا٫"

(کتاب البیوع، الباب الأول في تعريف البيع وركنه وشرطه وحكمه وأنواعه، ج:3، ص:2 تا 3، ط:دار الفکر بیروت) 

فتاوی شامی میں ہے:

"واعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة: قوي، ومتوسط، وضعيف؛ (فتجب) زكاتها إذا تم نصابا وحال الحول، لكن لا فورا بل (عند قبض أربعين درهما من الدين) القوي كقرض (وبدل مال تجارة) فكلما قبض أربعين درهما يلزمه درهم.

(قوله: عند الإمام) وعندهما الديون كلها سواء تجب زكاتها، ويؤدي متى قبض شيئا قليلا أو كثيرا إلا دين الكتابة والسعاية والدية في رواية بحر (قوله: إذا تم نصابا) الضمير في تم يعود للدين المفهوم من الديون، والمراد إذا بلغ نصابا بنفسه أو بما عنده مما يتم به النصاب ۔۔۔۔ مطلب في وجوب الزكاة في دين المرصد (قوله: كقرض) قلت: الظاهر أن منه مال المرصد المشهور في ديارنا؛ لأنه إذا أنفق المستأجر لدار الوقف على عمارتها الضرورية بأمر القاضي للضرورة الداعية إليه يكون بمنزلة استقراض المتولي من المستأجر، فإذا قبض ذلك كله أو أربعين درهما منه ولو باقتطاع ذلك من أجرة الدار تجب زكاته لما مضى من السنين والناس عنه غافلون."

(كتاب الزكاة، باب زكاة المال، ج:2، ص:305، ط:سعيد)

وفیه ايضا:

"(قوله: وحكمه ثبوت الملك) أي في البدلين لكل منهما في بدل، وهذا حكمه الأصلي."

(کتاب البیوع، ج:4، ص:506، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709101927

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں