
میں پاکستانی کرنسی کے بدلے درہم خریدنا چاہتا ہوں،اگر میں نقد پیسے دوں تو مجھے درہم اٹھتر (78) روپے کا ملتا ہے،اور اگر ایک ماہ بعد والے چیک کے ذریعہ درہم خریدنا چاہوں تو مجھے پچاسی (85) روپے کا ملتا ہے۔کیا ایسا سودا کرنا شرعاً درست ہے؟
ایک ملک کی کرنسی کو دوسرے ملک کی کرنسی سے تبدیل کرنا "بیعِ صرف" کہلاتا ہے،بیعِ صرف کے درست ہونے کے لیے یہ شرط لازمی ہے کہ دونوں جانب سے رقم کا تبادلہ دست بدست ہو اور اسی مجلس میں دونوں کرنسیوں پر قبضہ مکمل ہو جائے۔
چونکہ صورت مسئولہ میں ادائیگی "پوسٹ ڈیٹڈ چیک" (ادھار) کے ذریعے ہو رہی ہے، اس لیے یہ معاملہ نسیئہ (ادھار) ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور حرام ہے ۔ چیک چونکہ مستقبل کی تاریخ کا ہے، اس لیے اسے شرعی قبضہ نہیں مانا جائے گا، بلکہ یہ ادھار کا معاملہ بن جائے گا جو بیعِ صرف میں سود کا موجب ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(هو) لغةً: الزيادة. وشرعاً: (بيع الثمن بالثمن) أي ما خلق للثمنية ومنه المصوغ (جنساً بجنس أو بغير جنس) كذهب بفضة، (ويشترط) عدم التأجيل والخيار و (التماثل) أي التساوي وزناً، (والتقابض) بالبراجم لا بالتخلية (قبل الافتراق)، وهو شرط بقائه صحيحاً على الصحيح، (إن اتحد جنساً وإن) وصلية (اختلفا جودةً وصياغةً) ؛ لما مر في الربا (وإلا) بأن لم يتجانسا (شرط التقابض) لحرمة النساء، (فلو باع) النقدين (أحدهما بالآخر جزافاً أو بفضل وتقابضا فيه) أي المجلس (صح)."
(کتاب البیوع، باب الصرف،ج:5،ص:257، ط:سعيد)
فتاوی بینات میں ہے:
”جس طرح حقیقی زر سونا اور چاندی کی بیع میں متحد الجنس ہونے کی صورت میں برابری اور تقابض ضروری ہے، اسی طرح باتفاق علماء و اہل حق رائج الوقت کرنسی نوٹ، اور کاغذی سکہ میں بھی متحد الجنس و نوع کی صورت میں برابری اور تقابض ضروری ہے، مثلاً ایک ڈالر کے عوض دو ڈالر کی بیع جائز نہیں ، ایک پونڈ کے عوض دو پونڈ کی بیع جائز نہیں ہے۔ علیٰ ہذا القیاس تمام ممالک کے کاغذی سکوں کا حکم ہے، ہر ملک کا سکہ الگ الگ جنس ثمن ہے ایک ملک کے مساوی سکہ میں تفاضل ربوا اور سود ہوگا، مثلاً ایک ڈالر کے بدلہ میں دو ڈالر ایک ریال کے بدلہ میں دو ریال،ایک پونڈ کے بدلہ میں دو پونڈ ایک روپیہ کے بدلہ میں دو روپیہ یا ایک روپیہ کچھ پیسے ۔لیکن مختلف ممالک کے سکے مختلف جنس کے حکم میں ہونے کی وجہ سے اس میں تفاضل جائز ہے ، اور ہوتا بھی یہی ہے، مثلاً ایک ڈالر کے بدلہ میں ۱۶؍روپے ایک ریال کے بدلہ میں چار روپے ، تاہم نقداً بنقدٍ ہونا ضروری ہے ادھار جائز نہیں ہے کیونکہ یہ حقیقی ثمن سونا اور چاند ی کے حکم میں ہیں، لہٰذا مختلف ممالک کے سکوں کی جب ہوتو دست بدست ہونا ضروری ہے۔“
(کتاب الزکوٰۃ ، ج:2، ص:675، ط:مکتبہ بینات)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711102153
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن