
میرے والد محترم نے میرے بھائی کو کاروبار جمانے کے لیے اپنے ہی کاروبار کی ایک دکان میں کچھ اور پیسے دے کر بٹھا دیا تھا تاکہ کاروبار بھی چل جائے اور خرچہ آتا رہے،میرے بڑے بھائی کے ساتھ منجھلے بھائی بھی دکان پر جاتے تھے، بڑے بھائی سودا وغیرہ کرتے تھے اور منجھلے بھائی لکھت پڑھت کرتے اور پیسہ وصول کرتے تھے، اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہا ،انہوں نے سالوں دکان چلائی ،جس میں کمایا بھی، گوایا بھی، گھر کے اخراجات بھی ہوئے ،لینا دینا بھی ہوا، اور باہر ملکوں میں گھومنا پھرنا بھی ہوا، تعلیم کے خرچے بھی ہوئے، اور بڑے بھائی نے کچھ سونے کی چیزیں بھی بنوائیں اپنی بیگم کے لیے، پھر کچھ عرصہ پہلے دکان بند ہو گئی ،کیا وجوہات بنیں کچھ پتہ نہیں؟ بڑے بھائی نے کبھی مناسب جواب نہیں دیا، اور اسی طرح منجھلے بھائی بھی گھر بیٹھ گئے۔
میرے والد اپنی زندگی میں میرے بڑے بھائی سے کئی دفعہ پوچھتے رہے کہ کتنے پیسے ہیں؟ کمپنی کے اکاؤنٹ میں یا تمہارے پاس ،جو بھی ہیں تم نے سیاہ کیا یا سفید کیا بتا دو ،پر بھائی نے کبھی تفصیل سے جواب نہیں دیا، نہ حساب دیا، اور نہ ہی کبھی پیسوں کی بات کی ،میرے والد کی زندگی میں بڑے بھائی نے کبھی یہ نہیں کہا تھاکہ یہ پیسے میرے ہیں ،میں نے کمائے ہیں یااس کا کوئی حساب نہیں ہے،اور نہ ہی میرے والد کے سامنے پیسے دینے سے منع کیا۔
اب میرے والد کے انتقال کے بعد سے میرے بڑے بھائی یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ کاروبار میں نے کیا ہے، میں نے کمایا ہے، اور میں نے اخراجات کیے ہیں اتنے سالوں تو یہ سارا پیسہ صرف میرا ہے ،اور اس معاملے میں کسی کا عمل دخل نہیں؛ حتی کہ منجھلےبھائی کا بھی نہیں ہے ۔
اب میرے والد کے انتقال کے بعد جو بھی کاروبار کا پیسہ بھائی کے زیر استعمال ہے( انہوں نے والد کی زندگی میں ہی کسی کو بغیر بتائے اسی کاروبار کے پیسے سے کچھ زمین لے لی تھی) تو یہ سب میرے بھائی کی ملکیت میں چلا جائے گا؟ جیسا کہ میرے بھائی کہہ رہے ہیں یا اس میں وراثت بنے گی اور منجھلے بھائی کو کیا ملےگا ؟اس بارے میں شرعا کیا حکم ہے؟
وضاحت:میرے والد اور بھائی اکٹھے رہتے تھے۔
صورت ِ مسئولہ میں سائلہ کے والد نے جب سائلہ کے بھائیوں کو پیسے دےکر اپنے کاروبار کی دکان میں بٹھا دیا کہ وہ اس کو سنبھالیں ،تو وہ کاروبار سائلہ کے والد ہی کا تھا،سائلہ کے دونوں بھائی اس میں والد کے معین و مد دگار تھے،لہذا سائلہ کے بھائیوں نے کاروبار کو جو ترقی دی اور اس میں سے جو کچھ خریدا اور بنایا (خواہ وہ سائلہ کے بھائی کی بیوی کے لیے سونے کے زیورات ہوں یا پھر بھائی کی خرید ی ہوئی زمین ہو یا اس کے علاوہ اور کچھ)وہ سائلہ کے والد کےترکہ میں شامل ہو کر تمام شرعی ورثاء میں شرعی حصوں کے تناسب سے تقسیم کیا جائےگا،سائلہ کے بھائی کا یہ دعوی کرناکہ"یہ کاروبار میں نے کیا ہے، میں نے کمایا ہے، اور میں نے اخراجات کیے ہیں، اتنے سالوں تو یہ سارا پیسہ صرف میرا ہے ،اور اس معاملے میں کسی کا عمل دخل نہیں"شرعاًدرست نہیں ہے، اور اس پر لازم ہےکہ اس کے قبضہ میں جو والد کا کاروبار ، اس کا نفع اور اس سے خریدی گئی تمام اشیاء ہیں ان کو سب ورثاء میں تقسیم کر ے،بصورتِ دیگربقیہ ورثاء کی حق تلفی شمار ہوگا، جو کہ حرام ہے، اس کا آخرت میں حساب دینا ہوگا، جوآسان نہ ہوگا۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة ."
(کتاب الفرائض ،باب الوصایا،الفصل الثالث،ج:1، ص:462،ط:مکتبۃ البشر ٰی)
ترجمہ”انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اپنے وارث کی میراث کاٹی تو روزِ قیامت اللہ تعالیٰ اس کی جنت کی میراث کاٹ دے گا۔ “
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين".
(كتاب البيوع ، باب الغصب والعارية ، الفصل الأول، ج:1، ص:254، ط:قديمي)
"ترجمہ:حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص(کسی کی) بالشت بھر زمین بھی از راہِ ظلم لے گا، قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی زمین اس کے گلے میں طوق کے طور پرڈالی جائے گی۔"
شرح المجلہ میں ہے:
"إذا عمل أحد في صنعته مع ابنه الذي في عياله فكافة الكسب لذلك الشخص و يعد ولده معينا، كما أنه إذا غرس أحد شجرا فأعانه ولده الذي في عياله فيكون الشجر لذلك الشخص ولا يشاركه ولده فيه إذا عمل أحد في صنعة هو وابنه الذي في عياله واكتسبا أموالا ولم يكن معلوما أن للابن مالا سابقا فكافة الكسب لذلك الشخص ولا يكون لولده حصة في الكسب بل يعد ولده معينا وليس له طلب أجر المثل حتى أنه لو تنازع الأب في المتاع الموجود في بيته مع أولاده الخمسة الذين يقيمون معه في ذلك البيت وادعى كل منهم أن المتاع له فالمتاع للأب ولا يكون للأولاد غير الثياب التي هم لابسوها (التنقيح) ما لم يثبتوا عكس ذلك ويوجد ثلاثة شروط لأجل اعتبار الولد معينا لأبيه."
( الكتاب العاشر، الباب السادس، الفصل السادس، المبحث الثاني ،ج :3،ص:461 ،ط: دار الجيل)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701100359
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن