بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

”یہاں سے گئی تو تمہیں چھوڑدوں گا اور جانا ہے چلی جاؤ اپنے ابو کے ساتھ واپس مت آنا“ سے طلاق کے وقوع کا حکم


سوال

میرا اور میری بیوی کا کچھ دنوں سے جھگڑا چل رہاتھا، میرے سسر میری بیوی کو لینے کے لیے آئے،وہ میری بیوی کواپنے ساتھ لے جاناچاہتے تھے،میں نے غصہ میں آكریہ کہا کہ”اگر تویہاں سے گئی تومیں تمہیں چھوڑ دوں گا“یہ الفاظ میں نے ڈرانے کے لیے کہے تھے، دو تین دن تک میرے سسر میرے گھر ميں ہی رہے اور یہ معاملہ چلتا رہا، میں اجازت نہیں دے رہا تھا اور وہ لے جانے پر بضد تھے اور انہوں نے پولیس اور میڈیا کو لا نے کی دھمکی بھی دی، میرے گھر والوں نے بھی یہ کہا کہ  اس کو جانے دو،کچھ عرصےبعد واپس آجائے گی، اس پر میں نےغصہ میں آکر یہ کہا کہ ”جاناہےچلی جاؤاپنے ابو کے ساتھ،واپس مت آنا، جاؤتم نے میراساتھ نہیں دیا،کبھی واپس مت آنا“۔

یہ بات میں نے اس لیے کہی تھی کہ میرے سسر لےجانے پر بضد تھے،اور میرے گھر والے بھی یہ کہہ رہے تھے کہ ابھی جانے دو شاید یہ واپس لے آئے۔اب سوال یہ ہے کہ:

ان الفاظ سے کتنی طلاقیں واقع ہوگئیں ہیں؟

وضاحت:

سائل کا کہنا ہے کہ ”جاناہےچلی جاؤاپنے ابو کے ساتھ،واپس مت آنا، جاؤتم نے میراساتھ نہیں دیا،کبھی واپس مت آنا“اس سےمیری صرف اس کو روکنے کی نیت تھی تاکہ وہ ڈر کر رک جائے، اور اپنے والد کےساتھ نہ جائے، کیونکہ اس کے والد بہت زیادہ ضد کر رہے تھے تو میں نے غصے میں یہ کہہ دیا،باقی میری ان الفاظ سےاس کو چھوڑنے اور طلاق کی کوئی نیت نہیں تھی۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل نے اپنی بیوی سے غصہ میں جوپہلاجملہ کہا تھاکہ” اگر تویہاں سے گئی تومیں تمہیں طلاق  دے دوں گا“تویہ جملہ مستقبل میں طلاق دینے کے ارادہ ودھمکی پردلالت کرتا ہے، جس سےفی الحال کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔

نیز اس کے بعد سائل نےاپنی بیوی سے جویہ جملہ کہا کہ ”جاناہے چلی جاؤاپنے ابو کے ساتھ ،واپس مت آنا، جاؤتم نے میرا ساتھ نہیں دیا ،کبھی واپس مت آنا“اگر سائل  نےاس سے  طلاق کی  نیت نہیں کی ،اورنیت  نہ ہونے کا حلفیہ انکار کرےاور یہ کہےکہ صرف اس کو روکنے کی غرض سے یہ کہا تھا تواس سے بھی  سائل کی  بیوی پرکوئی    طلاق واقع نہیں ہوئی ،دونوں کا نکاح بدستور قائم ہے۔

العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ میں ہے:

"صيغة ‌المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال كما صرح به الكمال بن الهمام."

(کتاب الطلاق ،ج:1،ص:38،ط:دار المعرفة)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله فنحو اخرجي واذهبي وقومي) أي من هذا المكان لينقطع الشر فيكون ردا أو لأنه طلقها فيكون جوابا رحمتي. ولو قال فبيعي الثوب لا يقع وإن نوى عند أبي يوسف لأن معناه عرفا لأجل البيع فكان صريحه خلاف المنوي، ووافقه زفر نهر ولو قال: اذهبي فتزوجي بالفاء أو الواو فسيأتي الكلام عليه في الفروع."

(كتاب الطلاق، باب الكنايات، ج:3، ص:298، ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"(تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال والقول له بيمينه في عدم النية ويكفي تحليفها له في منزله، فإن أبى رفعته للحاكم فإن نكل فرق بينهما مجتبى.(وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا (وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط) .

(قوله بيمينه) فاليمين لازمة له سواء ادعت الطلاق أم لا حقا لله تعالى ط عن البحر (قوله فإن نكل) أي عند القاضي لأن النكول عند غيره لا يعتبر."

(كتاب الطلاق، باب الكنايات، ج:3، ص:301،300، ط:سعید)

البحر الرائق میں ہے:

"إذا قال: لم أنو الطلاق فعليه اليمين إن ادعت الطلاق، وإن لم تدع يحلف أيضا حقا لله تعالى."

(كتاب الطلاق، باب الكنايات في الطلاق، ج:3، ص:322، ط:دار الكتاب الإسلامي)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705101580

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں