
میری بیوی نے مجھ سے دس ہزار روپے خرچہ کا مطالبہ کیا، میری مالی حالت کمزور تھی اس لیے میں نے انکار کر دیا، اس بات پر ہمارے درمیان جھگڑے ہونے لگے، میری بیوی نے مجھ سے طلاق کا مطالبہ کیاکہ: "تین شبد(لفظ) بول کر مجھے آزاد کر دو" میں نے جوابا کہا کہ: مجھے آپ کو آزاد کرنے کی ضرورت نہیں ہے، آپ آل ریڈی(already)آزاد ہو، آزاد خیالات کی ہو، نہ میری سنی نہ والدین کی۔
میں اپنے سسرال میں رہا کرتا تھا، دو،تین مرتبہ یہ ہوا کہ جب میں رات کو گھر آیا تو دروازہ بند تھا، لہذا میں کہیں اور رہنے لگا، اس کے بعد مجھے وکیل کےذریعے معلوم ہوا کہ میری بیوی نے عدالت میں خلع کا کیس دائر کیا ہے، پھر مجھے عدالت طلب کیا گیا، میں تیسری پیشی پر عدالت میں حاضر ہوا، میں نے عدالت میں حاضر ہو کر کہا کہ :"مجھے ان کے خلع لینے پر کوئی اعتراض نہیں ہے، یہ خلع لینا چاہے تو لے سکتی ہے"، اور میں دلی طور پر بھی ان کے خلع لینے پر راضی تھا، اور میں نے نو آبجیکشن فارم پر بھی عدالت میں دستخط کیے۔
ابھی کچھ دن قبل میرا اپنی بیوی سے رابطہ ہوا، تو میری بیوی چاہتی ہے کہ ہم دوبارہ گھر بسا لیں، میں نے بیوی سے کہا کہ تم نے خلع کیوں لی تھی؟ بیوی نے کہا کہ میں نےآپ سے خلع اس لیے لی تھی کہ آپ مجھے تین طلاق دے چکے تھےاور آپ نے کہا تھا کہ: تم پہلے سے آزاد ہو، مجھے تمہیں آزاد کرنے کی ضرورت نہیں ہے، میں اس سے یہ سمجھی تھی کہ طلاق ہوچکی ہے ۔
وضاحت: لفظ آزاد سے کوئی طلاق وغیرہ دینا مقصود نہیں تھا، مقصد یہ تھا کہ میں تمہیں آزاد یعنی طلاق نہیں دیتا، مجھے تم سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، تم میری بات نہیں مانتی۔آپ کو مسئلہ ہے تو آپ مجھے چھوڑدو۔
صورت مسئولہ میں سائل کا اپنی بیوی کے طلاق کے مطالبے پر یہ کہنا کہ : "مجھے آپ کو آزاد کرنے کی ضرورت نہیں ہے، آپ آل ریڈی(already)آزاد ہو، آزاد خیالات کی ہو"،اور ان الفاظ سے سائل کا مقصود یہ تھا کہ میں تمہیں آزاد یعنی طلاق نہیں دیتا، مجھے تم سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، تم آزاد خیالات کی ہو، میری نہیں مانتی ،توان الفاظ سے سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی تھی ، بعد ازاں جب سائل کی بیوی نے عدالت میں خلع کا کیس دائر کیا اور سائل نے عدالت میں پیش ہوکر اپنی بیوی کو خلع دینے پر رضامندی کااظہار کیا تھاتو عدالت کی جانب سے واقع کردہ خلع کی بناء پر سائل کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوگئی تھی،نکاح ختم ہوچکا تھا۔
اب اگر فریقین آپس میں باہمی رضامندی سےعورت کی عدت میں یا عدت کے بعددوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو تجدید نکاح کرکے ایک ساتھ رہ سکتے ہیں، تجدید نکاح کے بعد آئندہ کے لیے سائل کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(ويقع بها) أي بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح...واحدة رجعية (وإن نوى خلافها) من البائن أو أكثر خلافا للشافعي (أو لم ينو شيئا) ولو نوى به الطلاق عن وثاق دين إن لم يقرنه بعدد.
في الرد: (قوله دين) أي تصح نيته فيما بينه وبين ربه تعالى لأنه نوى ما يحتمله لفظه فيفتيه المفتي بعدم الوقوع. أما القاضي فلا يصدقه ويقضي عليه بالوقوع لأنه خلاف الظاهر بلا قرينة."
(کتاب الطلاق، باب صریح الطلاق، ج: 3، ص: 247-251، ط: دار الفکر بیروت)
وفیہ ایضا:
"ومن الألفاظ المستعملة: الطلاق يلزمني، والحرام يلزمني، وعلي الطلاق، وعلي الحرام فيقع بلا نية للعرف.
في الرد: (قوله فيقع بلا نية للعرف) أي فيكون صريحا لا كناية، بدليل عدم اشتراط النية وإن كان الواقع في لفظ الحرام البائن لأن الصريح قد يقع به البائن كما مر، لكن في وقوع البائن به بحث سنذكره في باب الكنايات، وإنما كان ما ذكره صريحا لأنه صار فاشيا في العرف في استعماله في الطلاق لا يعرفون من صيغ الطلاق غيره ولا يحلف به إلا الرجال، وقد مر أن الصريح ما غلب في العرف استعماله في الطلاق بحيث لا يستعمل عرفا إلا فيه من أي لغة كانت، وهذا في عرف زماننا كذلك فوجب اعتباره صريحا كما أفتى المتأخرون في أنت علي حرام بأنه طلاق بائن للعرف بلا نية مع أن المنصوص عليه عند المتقدمين توقفه على النية."
(کتاب الطلاق، باب صريح الطلاق، ج: 3، ص: 252، ط: دار الفکر بیروت)
مبسوط میں ہے:
"(قال): و الخلع جائز عند السلطان و غيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، و هو بمنزلة الطلاق بعوض، و للزوج و لاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض.."
(کتاب الطلاق، باب الخلع، ج: 6، ص: 173، ط: دارالمعرفة بیروت)
فتاوی شامی میں ہے:
"(و) حكمه أن (الواقع به) ولو بلا مال (وبالطلاق) الصريح (على مال طلاق بائن)."
(کتاب الطلاق، باب الخلع، ج: 3، ص: 444، ط: دار الفکر بیروت)
فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
"إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها."
(کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج: 1، ص: 472، ط: دار الفکر بیروت)
امداد الاحکام میں ہے:
"کنا یہ وہ ہے جس میں احتمال ارادہ رفع قیدنکاح بھی ہو اور اس کے غیر کا احتمال بھی ہو اور لفظ آزاد ہر حالت اور ہر استعمال میں کنایہ طلاق نہیں بلکہ یہ کنایات میں اُس وقت داخل ہے جبکہ خلاف ارادۂ طلاق کا قرینہ کلام میں نہ ہو، مثلاً یوں کہا جائے کہ: میری بیوی آزاد ہے، یا تو آزاد ہے، یا وہ آزاد ہے، اور وہ ہر طرح مجھ سے آزاد ہے، اور تو پوری طرح آزاد ہے، ان استعمالات میں بیشک یہ کنایات کی قبیل سے ہے اور اگر ارادہ طلاق کا قرینہ قائم ہو تو پھر یہ لفظ صریح ہو جاتا ہے، مثلاً یوں کہا جائےکہ: میری بیوی میرے نکاح سے آزاد ہے، یا میں نے اس کو اپنے نکاح سے آزاد کیا، اورمیں نے اس کو اپنے سے آزاد کر دیا، اور اگر کلام میں عدم ارادہ طلاق کا قرینہ قائم ہو جائے توپھر یہ نہ صریح طلاق سے ہے نہ کنایات سے، مثلا یوں کہا جائے کہ: تو آزاد ہے جو چاہے کھاپی، اورمیں نے اپنی بیوی کو آزاد کیا چاہے وہ میرے پاس رہے یا اپنے گھر، اور وہ آزاد ہے جب اس کاجی چاہے آوے ۔ ان استعمالات میں ہرگز کوئی شخص محض مادہ آزاد کی وجہ سے اس کلام کوکنایہ طلاق سے نہیں کہہ سکتا بلکہ اباحت افعال و تخییر وغیرہ پر محمول کرے گا بشرطیکہ اس کومحاورات لسان پر کافی اطلاع ہو، اور ایک لفظ کا صریح طلاق اور کنایہ طلاق ہونا اور گا ہےدونوں سے خالی ہونا اہل علم پر مخفی نہیں، ملاحظہ: لفظ طالق اورطلقتك معنی طلاق میں شرعا صریح ہے لیکن أنت مطلقة بسكون الطاء من الإطلاق فكناية ولوصرح بنحو أنت طالق عن الوثاق، أو القيد فإنه يصدق قضاء وديانة في عدم إرادة الطلاق الرافع لقيد النكاح إلا اذا قرنه بعد د فلا يصدق أصلا، صرح به في الدر والشامية في باب الصريح."
(کتاب الطلاق، باب ایقاع الطلاق، فصل فی الطلاق بالکنایات، ج: 2، ص: 470، ط: مکتبہ دار العلوم کراچی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701101097
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن