بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 محرم 1448ھ 14 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

تم میری طرف سے فارغ ہو سے نیت اور مذاکرہ طلاق نہ ہونے کی صورت میں حکم


سوال

 میاں بیوی کی آپس میں کوئی لڑائی نہیں تھی ،نہ شوہر بیوی کو طلاق دینے کا کوئی ارادہ رکھتا تھا ،نہ ہی بیوی طلاق لینے کا،شوہر اس سارے معاملے سے دو دن پہلے بیوی کو بول چکا تھا کہ میں تمہیں کبھی طلاق نہیں دوں گا  ،مگر دو دن بعد کسی معمولی گھریلو بحث میں جب کہ موضوع بھی طلاق کا نہیں تھا، نہ اس وقت شوہر کی نیت طلاق دینے کی تھی ،اس وقت (بیوی کے ٹیوشن پڑھانے ،شوہر کے گھر چھوڑ کر جانے )کے موضوع پر شوہر مسلسل بولے جا رہے تھے ،بیوی نے اس بحث سے بچنے کے لیے بول دیا آپ کو جو فیصلہ کرنا ہے کریں، بیوی کے ذہن میں اس وقت طلاق کی کوئی سوچ نہیں تھی ،اسی گرما گرمی میں شوہر نے جواباً دو دفعہ بول دیا تم میری طرف سے فارغ ہو ، بیوی بغیر نیت جانے اسی وقت گھر چھوڑ کر آ گئی اور شوہر کے رابطہ کرنے پر واپس بلانے پر بھی واپس نہیں گئی اور عدت گزر گئی،نیت کے بارے میں شوہر کا کہنا ہے کہ وہ طلاق دینے کا کوئی ارادہ نیت نہیں رکھتا تھا،بس بیوی کی اس بات کے جواب میں بول دیا،جب کہ شوہر کو کنایہ الفاظ کی نزاکت کا اس وقت علم بھی نہیں تھا، اب اس سارے معاملے کو کافی وقت گزر چکا،نوٹس ابھی نہیں بجھوائے گئے، مگر ذہن میں یہ الجھن ہے کہ ان کنایہ الفاظ سے طلاق کی جو شرائط ہوتی ہیں ان میں سے ایک بھی شرط اس وقت موجود نہیں تھی ،نہ الفاظ طلاق کے،نہ موضوع طلاق کا اور نہ ہی شوہر کے دل میں طلاق دینے کا کوئی ارادہ یا نیت تھی تو کیا ایسی صورت میں طلاق واقع ہو جاتی ہے یا یہ نکاح قائم ہے؟برائے مہربانی تحریری فتویٰ عنایت فرمائیں ۔

جواب

صورت ِ مسئولہ میں واقعۃً اگر شوہر نے "تم میری طرف سے فارغ ہو" طلاق کی نیت اور مذاکرہ طلاق یا مطالبہ طلاق  کے بغیر کہا ہے تو اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،دونوں میاں بیوی کا نکاح برقرار ہے ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ومایصلح جواباً وشتماً خلیة ،بریة، بتة،بتلة، بائن حرام  ۔۔۔۔ ففی حالة الرضاء لایقع فی الفاظ کلها الا بالنیة."

(كتاب الطلاق، الباب الثاني في إيقاع الطلاق، الفصل الخامس في الكنايات في الطلاق، ج: 1، ص: 374، 375، ط: دار الفكر) 

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"(قال): ولو قال: أنت مني بائن أو بتة أو خلية أو برية، فإن لم ينو الطلاق لايقع الطلاق؛ لأنه تكلم بكلام محتمل".

(باب ما تقع به الفرقة مما يشبه الطلاق، ج: 6، ص: 72، ط: دار المعرفة - بيروت) 

فتاویٰ شامی میں ہے:

"الكنايات ( لاتطلق بها )قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب."

(‌‌كتاب الطلاق‌‌، باب الكنايات، ج:3، ص: 296 ،297، ط: سعید)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144801100367

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں