
میں پہلے دو طلاق دے چکا ہوں، طلاق کے بعد رجوع کر لیا تھا، اب میری بھابھی نے ہم دونوں میاں بیوی کو آپس میں لڑوایا تو لڑائی کے دوران میں نے غصہ میں آکر ڈرانے کے لیے اپنی بیوی کو یہ الفاظ کہے کہ ”تم میری طرف سے فارغ ہو“ میری نیت طلاق دینے کی نہیں تھی،تو کیا طلاق واقع ہو گئی ہے؟
وضاحت:
ہماری لڑائی کسی اور بات پر ہو رہی تھی، طلاق کے حوالے سے کوئی ذکر نہیں تھااور نہ ہی طلاق کا مطالبہ تھا۔
صورت مسئولہ میں سائل نے جب اپنی بیوی کو غصے میں یہ الفاظ کہے کہ ”تم میری طرف سے فارغ ہو“ اور اس کی نیت طلاق دینے کی نہیں تھی، اور نہ ہی طلاق کے متعلق کوئی بات چل رہی تھی، اور نہ ہی طلاق کا مطالبہ تھا تو ان الفاظ سے اس کی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوئی، نکاح بدستور قائم ہے۔
المبسوط للسرخسی میں ہے:
"(قال): ولو قال: أنت مني بائن أو بتة أو خلية أو برية، فإن لم ينو الطلاق لايقع الطلاق؛ لأنه تكلم بكلام محتمل".
(باب ما تقع به الفرقة مما يشبه الطلاق، ج: 6، ص: 72، ط: دار المعرفة - بيروت)
فقط و الله أعلم
فتویٰ نمبر : 144801100560
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن