
ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ: اگر تم رشتے داروں میں سے زید یا عمرو یا بکر کے گھر گئی تو تم پر طلاق ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ:
1۔طلاق کے واقع ہونے کے لیے سب کے گھر جانا ضروری ہےیا کسی ایک کے گھر جانے سے طلاق واقع ہوجائے گی؟
2۔اگر عورت ایک کے گھر گئی تو قسم ختم ہوجائے گی یا دوسرے کے گھر جانے پر دوسری طلاق ہوجائے گی؟
1. صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ کہے کہ ”تم رشتے داروں میں سے زید یا عمرو یا بکر کے گھر گئی تو تم پر طلاق ہے“ تو اس کے بعد مذکورہ شخص کی بیوی زید، عمرو اور بکر میں سے کسی ایک کے گھر بھی گئی تو اس پر ایک طلاق رجعی واقع ہوجائے گی، طلاق کا وقوع تینوں کے گھر جانے پر موقوف نہیں ہوگا۔
2. مذکورہ عورت زید، عمرو، بکر میں سے کسی ایک کے گھر بھی چلی جائے گی تو طلاق واقع ہونے کے ساتھ ہی مذکورہ تعلیق بھی ختم ہوجائے گی، اس کے بعد اگر مذکورہ عورت عدت کے دوران یا رجوع یا دوسرے نکاح کے بعد دوبارہ مذکورہ رشتہ داروں میں سے کسی اور کے گھر داخل ہوئی تو اس پر مزیدکوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"قال إن دخلت هذه الدار أو هذه فأنت طالق أو قال أنت طالق إن دخلت هذه الدار أو هذه وكذلك إذا كان وسط الجزاء بأن قال إن دخلت هذه الدار فأنت طالق أو هذه الدار لأن كلمة أو ههنا تقتضي التخيير فصار كل فعل على حياله شرطا فأيهما وجد وقع الطلاق، وكذلك لو أعاد الفعل مع آخر بأن قال إن دخلت هذه الدار أو دخلت هذه سواء أخر الشرط أو قدمه أو وسطه."
(کتاب الأیمان، فصل في حكم اليمين التي تعلق بها الطلاق، ج:3، ص:30، ط:سعید)
شرح مختصر الکرخی میں ہے:
"قال: فإن قال: أنتِ طالق إن دخلت هذه الدار أو هذه الدار، أو قال: إن دخلتِ هذه الدار أو هذه الدار فأنتِ طالق، أو قال: إن دخلت هذه الدار فأنت طالق أو دخلت هذه الدار، فذلك كله سواء وأي الدارين دخلت طلقت؛لأن (أو) يقتضي التخيير، فصار كل فعل على حاله شرطًا في الطلاق، فأيهما وجد وقع."
(كتاب الأيمان، بَاب عطف الشروط بعضها على بعض، ج:4، ص:511، دار أسفار - الكويت)
الدر المختار مع الرد میں ہے:
"(وفيها) كلها (تنحل) أي تبطل (اليمين) ببطلان التعليق (إذا وجد الشرط مرة إلا في كلما فإنه ينحل بعد الثلاث) لاقتضائها عموم الأفعال."
(کتاب الطلاق، باب التعليق، مطلب في ألفاظ الشرط، ج:3، ص:352، ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705101505
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن