بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

میں نے تجھے اپنی ڈکشنری سے نکال دیا ہے، کہنے کا حکم


سوال

حالتِ نزاع میں ایک شخص نے اپنی بیوی سے یہ الفاظ کہے " میں نے تجھے اپنی ڈکشنری سے نکال دیا ہے،" شرعاً کیا ان الفاظ سے طلاق واقع ہوئی ہے؟ اگر طلاق واقع ہوئی ہے تو کتنی اور کون سی ؟ واضح رہے کہ یہ الفاظ کہتے وقت طلاق کی نیت نہیں تھی۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی؛ کیوں کہ "میں نے تجھے اپنی ڈکشنری سے نکال دیا ہے" طلاق کے نہ صریح الفاظ میں سے ہے،  اور نہ ہی کنائی الفاظ میں سے ہے،  پس نکاح بدستور قائم ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله وركنه لفظ مخصوص) ‌هو ‌ما ‌جعل ‌دلالة ‌على ‌معنى ‌الطلاق ‌من ‌صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر."

(كتاب الطلاق،ركن الطلاق، ج:3، ص:230، ط:سعيد)

بدائع الصنائع میں ہے:

"‌فركن ‌الطلاق هو اللفظ الذي جعل دلالة على معنى الطلاق لغة."

(كتاب الطلاق، فصل في بيان ركن الطلاق،ج:3،ص:98،ط:دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710101833

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں