بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ٹیوبولر احرام پہننے کا حکم


سوال

ایک خاص قسم کا احرام آج کل رائج ہو رہا ہے جسے "ٹیوبولر احرام" (Tubular Ihram) کہا جاتا ہے۔ اس میں نیچے پہننے والی لنگی ایک گول (tube نما) کپڑے کی شکل میں ہوتی ہے، یعنی اس کے دونوں کنارے آپس میں ملے ہوتے ہیں۔ بظاہر یہ سلا ہوا محسوس ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ عام سلے ہوئے کپڑوں (جیسے شلوار یا پاجامہ) کی طرح نہیں ہوتا، بلکہ کمپنی کی جانب سے اُسے اِسی ساخت میں تیار کیا جاتا ہے  ۔کیا یہ احرام پہننا جائز ہے۔نیز بعض لوگ اس لنگی کو جسم کا ناف سے اوپر والا حصہ ڈھکنے لیے یعنی چادر کی جگہ پر بھی استعمال کرتے ہیں۔کیا یہ جائز ہے؟برائے کرم راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں احرام کے لیے کھلی ہوئی چادریں استعمال کی جاتی تھیں، جب کہ سلا ہوا یا بدن کے مطابق تیار کردہ لباس استعمال نہیں کیا جاتا تھا۔ اس قسم کے لباس سے آپ ﷺ نے ممانعت فرمائی تھی۔

" حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے، بیان فرماتے ہیں کہ : ایک شخص نے رسول اللہ سے دریافت کیا کہ : محرم ( حج یا عمرہ کا احرام باندھنے والا) کیا کیا کپڑے پہن سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ (حالت احرام میں ) نہ تو کر تا قمیص پہنو اور نہ سر پر عمامہ اور نہ شلوار پاجامہ پہنو اور نہ بارانی پہنو اور نہ پاؤں میں موزے پہنو، سوائے اس کے کہ کسی آدمی کے پاس پہننے کے لئے چپل جو تا نہ ہو تو وہ مجبوراً پاؤں کی حفاظت کیلئے موزے پہن لے اور ان کو ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ کے جو تا سا بنالے (آگے آپ نے فرمایا کہ حالت احرام میں ) ایسا بھی کوئی کپڑا نہ پہنو جس کو زعفران یاورس لگا ہو ۔ "( صحیح بخاری و صحیح مسلم )

محدثین فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے اُن کپڑوں کا ذکر فرمایا جو اُس زمانے میں رائج تھے۔ اصل ممانعت اُن کپڑوں سے ہے جو بدن کے مطابق سلے ہوں۔ اس لیے یہی حکم ہر اُس لباس پر لاگو ہوتا ہے جو بعد کے زمانوں میں یا مختلف قوموں میں انہی مقاصد کے لیے استعمال ہو، جن مقاصد کے لیے قمیص، شلوار یا عمامہ استعمال کیے جاتے تھے۔

لہذا احرام کی لنگی ایسی ہونی چاہیے کہ اس کے دونوں کنارے (پاٹ) الگ الگ ہوں، یعنی وہ عام چادر یا کپڑے کی شکل میں ہو، جسے لپیٹا جاتا ہے۔ اس لیے بلا ضرورت ایسی لنگی استعمال نہیں کرنی چاہیے جس کے دونوں پاٹ پہلے سے جُڑے ہوئے ہوں۔ تاہم اگر کسی کو احرام کی عام چادر پہننے میں ستر کھلنے کا اندیشہ ہو، تو اس کے لیےمذکورہ ٹیوب نما احرام کی لنگی (جو کہ جسم یا اعضا کی ساخت کے مطابق (جیسے شلوار) سلی ہوئی نہیں ہے)استعمال کی گنجائش ہے، اس صورت میں کوئی دم لازم نہیں آئے گا، البتہ جسم کا اوپر والا حصہ ڈھکنے کے لیے اس ٹیوب نما لنگی کا استعمال درست نہیں۔

صحيح مسلم میں ہے:

"عن ابن عمر رضي الله عنهما « أن رجلا سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما يلبس المحرم من الثياب؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تلبسوا القمص، ولا العمائم، ولا السراويلات، ولا البرانس، ولا الخفاف، إلا أحد لا يجد النعلين فليلبس الخفين، وليقطعهما ‌أسفل ‌من ‌الكعبين، ولا تلبسوا من الثياب شيئا مسه الزعفران ولا الورس".

(‌‌کتاب الحج، باب ما يباح للمحرم بحج، أو عمرة، وما لا يباح، وبيان تحريم الطيب عليه، ج:4، ص:2، ط:دار الطباعة العامرة)

اس حدیث کے تحت شرح النووی علی مسلم میں ہے:

"وأجمع العلماء على أنه لا يجوز للمحرم لبس شئ من هذه المذكورات وأنه نبه بالقميص والسراويل على جميع ما في معناهما وهو ما كان محيطا أو مخيطا معمولا على قدر البدن أو قدر عضو منه كالجوشن والتبان والقفاز وغيرها ونبه صلى الله عليه وسلم بالعمائم والبرانس على كل ساتر للرأس مخيطا كان أو غيره حتى العصابة فإنها حرام فإن احتاج إليها لشجة أو صداع أو غيرهما شدها ولزمته الفدية ونبه صلى الله عليه وسلم بالخفاف على كل ساتر للرجل من مداس وجمجم وجورب وغيرها وهذا كله حكم الرجال".

(‌‌کتاب الحج، باب ما يباح للمحرم بحج، أو عمرة، وما لا يباح، وبيان تحريم الطيب عليه، ج:8، ص:73، ط:دار إحياء التراث العربي)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"فإن زرره أو خلله أو عقده أساء ولا دم عليه.

(قوله فإن زرره إلخ) وكذا لو شده بحبل ونحوه لشبهه حينئذ بالمخيط من جهة أنه لا يحتاج إلى حفظه."

(کتاب الحج، فصل: في الإحرام، ج:2، ص:481، ط:سعید)

وفیه أیضاً:

" (أو لبس مخيطا) لبسا معتادا، ولو اتزره أو وضعه على كتفيه لا شيء عليه.

(قوله لبسا معتادا) بأن لا يحتاج في حفظه عند الاشتغال بالعمل إلى تكلف. وضده أن يحتاج إليه، بأن يجعل ذيل قميصه مثلا أعلى وجيبه أسفل شرح اللباب."

(کتاب الحج، باب الجنايات في الحج، ج:2، ص:547، ط:سعید)

غنیۃ الناسک میں ہے:

"( فصل في مکروهات الإحرام ومحظوراته التی لاجزاء فیها سوی الکراهة) وهی......عقد الإزار والرداء بأن یربط طرف احدهما بطرف الآخر و أن یخلله بخلال أو یشده بحبل ونحوہ".

(ص:47، ط:دار رائدۃ في الطباعة والنشر)

امداد الفتاویٰ میں ہے:

"سوال: احرام باندھنے میں سیاہ کپڑا یا گیرو سے رنگاہوا کپڑا یا کسی دوسرے چیز سے رنگا ہوا پہننا جس میں کوئی خوشبو نہ ہو جائز ہے یا نہیں؟

دوسرے کوئی ازار یا چادر جو کہ کم عرض ہونے کی وجہ سے دو پاٹ کرکے پہن لی جاوے اسی حالت میں احرام میں تو اس واسطے کیا حکم ہے؟

الجواب: فی الدر المختار، باب الاحرام: (‌ولبس إزار)... (ورداء) ...(جديدين أو غسيلين طاهرين) أبيضين ككفن الكفاية، وهذا بيان السنة الخ

فی رد المحتار: (قوله وهذا) أي لبس الإزار والرداء على هذه الصفة بيان للسنة وإلا فساتر العورة كاف فيجوز في ثوب واحد وأكثر من ثوبين وفي أسودين أو قطع خرق مخيطة أي المسماة مرقعة والأفضل أن لا يكون فيها خياطة لباب.

اس سے معلوم ہو ا کہ سفید ہونا جامۂ احرام کا مستحب ہے، ورنہ سیاہ وغیرہ بھی جس میں خوشبو نہ ہو جائز ہےاور یہ بھی معلوم ہوا کہ گو افضل یہی ہے کہ اس میں بالکل سلائی نہ ہو، لیکن اگر دونوں پاٹوں کے جوڑنے کو سلائی کی جاوے تب بھی جائز ہے۔"

( باب الاحرام، ج:2، ص:195، ط:مکتبہ دار العلوم کراچی)

فتاویٰ رحیمیہ میں ہے:

"سوال: احرام کی چادر لنگی کی طرح سلی ہوئی ہو تو اس کی استعمال کی گنجائش ہے یا نہیں؟ بعض لوگوں کو کھلی چادر بطورِ لنگی استعمال کرنے کی عادت نہیں ہوتی تو ستر کھلنے کا اندیشہ ہوتا ہے، خاص کر سونے کی حالت میں۔تو کیا یہ صورت اختیار کی جاسکتی ہے؟

ج: ستر کھلنے کا اندیشہ ہو تو احرام کی چادرسیلینے کی گنجائش ہے، بلاضرورت سینا مکروہ ہے۔غنیۃ الناسک میں ہے: "عقد الإزار والرداء بأن یربط طرف احدهما بطرف الآخر و أن یخلله بخلال أو یشده بحبل ونحوہ"(غنیة الناسك، ص:47، فصل في مکروهات الإحرام ومحظوراته التی لاجزاء فیها سوی الکراهة)"۔

(احرام سے متعلق احکامات، ج:8، ص:75، ط: دار الاشاعت)

معلم الحجاج میں ہے:

"مسئلہ: تہبند کے دونوں پلوں کو آگے سے سینا مکروہ ہے، اگر کسی نے سترِ عورت کی خاطر حفاظت کی وجہ سے سی لیا تو دم واجب نہ ہوگا۔

مسئلہ: چادر میں گرہ دے کر گردن پر باندھنا۔چادر اور نہبند میں گرہ لگانا یا سوئی اور پن وغیرہ کا لگانا۔تاگے یا رسی سے باندھنا مکروہ ہے۔"

(مکروھات احرام، ص:120، ط:مکتبہ تھانوی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701101333

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں