
میرا نام نورین اقبال ہے اور شوہر کا نام رضوان ہے۔ میری شادی کو بیس سال ہوگئے ہیں، میرے شوہر شروع سے ہی لڑائی جھگڑے والے ہیں، ہمارے درمیان بہت جھگڑے رہے ہیں۔ تقریبا ڈیڑھ دو سال قبل انہوں نے مجھ سے کہا کہ تو طلاقن ہے، میں تجھے ایک طلاق دے چکاہوں، اس کے بعد مجھ سے زبانی یا عملی طور پر کوئی رجوع نہیں کیا، ہم دونوں الگ الگ کمرے میں رہتے رہے۔ پھرتقریبا سات آٹھ مہینے بعد انہوں نے مجھ سےایک مرتبہ تعلق قائم کیا، پھر کچھ عرصہ بعد یہی الفاظ دہرائےکہ میں تو تجھے ایک طلاق دے چکا ہوں، اور اب کل رات کو میری بیٹی(میری بیٹی کی عمر 19 سال ہے) کو بلا کر کہا کہ اس کو طلاق ہوگئی ہے۔مذکورہ صورت میں طلاق کا کیا حکم ہے ؟
صورت مسئولہ میں اگر واقعۃ شوہر نے سائلہ کو یہ الفاظ کہے تھے کہ " تو طلاقن ہے، میں تجھے ایک طلاق دے چکا ہوں" تو ان الفاظ سے موصوفہ پر ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی تھی، جس کے بعدشوہر کو عدت طلاق (مکمل تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو ،اور ماہواری آتی ہو، حمل کی صورت میں بچہ کی پیدائش ہونے تک کے عرصہ) کے دوران رجوع کا حق حاصل تھا، لیکن شوہر نے جب عدت کی مدت میں رجوع نہیں کیا اور عدت گزرگئی تو ان دونوں کا نکاح ٹوٹ گیا جس کی وجہ سے رجوع کا حق باقی نہیں رہا، اور موصوفہ شوہر کے نکاح سے مکمل طور پر آزاد ہوگئی۔
مذکورہ واقعہ کے سات آٹھ ماہ بعد مذکورہ خاتون کے شوہر نے جب مذکورہ الفاظ دوبارہ کہے تو نکاح قائم نہ ہونے کی وجہ سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ، اسی طرح گزشتہ دنوں جب موصوفہ کی 19 سالہ بیٹی کو کہا کہ اس کو طلاق ہوگئی ہے، اس سے بھی مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، لہذا مسئولہ صورت میں مذکورہ دونوں افراد کے لیے تجدید نکاح سے قبل میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہنا حرام ہوگا، البتہ باہمی رضامندی سے نیا مہر مقرر کرکے دوبارہ نکاح کر کے ساتھ رہ سکتے ہیں، تجدید نکاح کے بعد آئندہ شوہر کے پاس صرف دو طلاق دینے کا حق ہوگا، البتہ اگر موصوفہ کسی اور سے نکاح کرنا چاہتی ہو، توکرسکتی ہے، اس کے سابق شوہر کو اسے روکنے کا شرعا حق نہیں ہوگا۔
نیز عدت کی مدت گزرجانے کے بعد مذکورہ دونوں افراد نے جو جسمانی تعلق قائم کیا تھا، وہ نکاح نہ ہونے کی وجہ سے حرام تھا، اس پر توبہ و استغفار کرنا دونوں پر لازم ہوگا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے :
"رجل قال لامرأته يا مطلقة إن لم يكن لها زوج قبل أو كان لها زوج لكن مات ذلك الزوج ولم يطلق وقع الطلاق عليها"
(کتاب الطلاق، الفصل الأول في الطلاق الصریح، ج: 1، ص: 355، ط: دار الفکر)
الجوہرۃ النیرۃ میں ہے :
"قال رحمه الله (وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض) إنما شرط بقاؤها في العدة لأنها إذا انقضت زال الملك وحقوقه فلا تصح الرجعة بعد ذلك."
(کتاب الرجعة، ج: 2، ص: 50، ط: مطبعة الخیریة)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144703101715
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن