بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

تو مجھ سے طلاق ہے تین مرتبہ کہنے سے طلاق کا حکم


سوال

میں مستری ہوں، مکان کی تعمیرات کا کام کرتا ہوں، صبح 8 بجے گھر سے نکل کر رات 7 یا 8 بجے تک واپس گھر آتا ہوں۔  میری بیوی نے مجھ پر یہ الزام لگایا کہ آپ فلاں عورت  کے گھر جاتے ہو وغیرہ ،یہ باتیں عورتوں کے سامنے مجھ سے کہنے لگی۔ میں نے غصہ میں آکر اس سے یہ کہا( ته زمانہ طلاق یی ، تہ زمانہ طلاق یی )(ترجمہ:تم مجھ سے طلاق ہو)5.4 مرتبہ کہا، اور پھر کہا( تہ زما خور و مور یی )تین سے زائد مرتبہ کہا، تین دن کے بعد سسر آئے اور میری بیوی کو لے کر چلے گئے، اور اب ایک سال ہو رہا ہے۔

میں نے پھر لاہور میں ایک مرتبہ ان سے( سسر اور بیوی )سے ملاقات کی، انہوں نے کہا کہ ہم نے پوچھا ہے کہ طلاق واقع نہیں ہوئی، اس لئے کہ چار مہینے کی بچی دودھ پی رہی ہے۔ میں بیوی کو ساتھ رکھنا چاہتا ہوں، لیکن شرعی مسئلہ اور حکم کو دریافت کرکے اس کے مطابق زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر مذکور صورت میں طلاق واقع ہوتی ہے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ اور رجوع کرنے کی گنجائش ہے یا نہیں ؟ اگر گنجائش ہے تو کس طرح ؟

ہم ساتھ رہنا چاہتے ہیں، اگر طلاق واقع ہوئی ہو تو ہمارے ایک ساتھ رہنے کا کیا طریقہ کار ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کا بیوی کو غصہ میں آکر چار سے پانچ مرتبہ یہ جملہ کہنا کہ:"تہ زمانہ طلاق یی"( یعنی تو مجھ سے طلاق ہے )، اس سے سائل کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں،اور مذکورہ خاتون سائل پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہے ،لہذا اب سائل کے لیے  رجوع کرنے  یا تجدید نکاح کی  گنجائش نہیں ہے۔

مطلقہ خاتون  عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔البتہ اگر مذکورہ عورت کسی دوسری جگہ نکاح کر لے،اور میاں بیوی کے درمیان ازدواجی تعلقات بھی قائم ہوجائیں،پھر شوہر کسی وجہ سے اس عورت کو طلاق دے دے، یا شوہر کا انتقال ہوجائے ،اور عورت اپنی عدت مکمل کر لے تو  اس صورت میں پہلے شوہر سے نکاح کی اجازت ہوگی ۔ 

فتاوٰی عالمگیری میں ہے:

" إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدةوبعد انقضائها، وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها، ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية، ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز. "

( کتاب الطلاق، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج: 1، ص: 472، ط: رشیدیہ )

البحر الرائق میں ہے:

" (قوله وينكح مبانته في العدة، وبعدها) أي المبانة بما دون الثلاث لأن المحلية باقية لأن زوالها معلق بالطلقة الثالثة فينعدم قبلها، ومنع الغير في العدة لاشتباه النسب، ولا اشتباه في الإطلاق له (قوله لا المبانة بالثلاث لو حرة، وبالثنتين لو أمة حتى يطأها غيره، ولو مراهقا بنكاح صحيح، وتمضي عدته لا بملك يمين) أي لا ينكح مبانته بالبينونة الغليظة أطلقه فشمل ما إذا كان قبل الدخول أو بعده كما صرح به في الأصل. "

( کتاب الطلاق، فصل فی ما تحل به المطلقة، ج: 4، ص: 61، ط: دار الكتاب الإسلامي )

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة."

(کتاب الطلاق، فصل في حكم الطلاق البائن، ج: 3، ص: 187، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710100685

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں