
ہمارے والد صاحب کا گھر ان کے انتقال کے بعد ہم بہن بھائیوں کے مشترکہ فیصلے سے ہماری والدہ کے نام کر دیا گیا، یعنی: ہم نے والدہ کے نام کر دیا تھا، مالک بنانا یا اپنا حصہ چھوڑنا مقصود نہیں تھا، اب والدہ اپنی زندگی میں اس گھر کو بیچ کر تمام بچوں کو ان کا حصہ دینا چاہتی ہیں، اب یہ گھر والدہ کی رضامندی کے مطابق 9250000 روپے کا فروخت کر دیا گیا، ہماری والدہ حیات ہیں اور ہم چار بھائی اور دو بہنیں ہیں۔
آپ سے گزارش ہے کہ شریعت کے مطابق ہم سب کا حصہ متعین فرما دیں۔
وضاحت: والد صاحب کے انتقال کے وقت بھی ہم چار بھائی، دو بہنیں اور والدہ حیات تھیں۔
صورتِ مسئولہ میں والد کے انتقال کے بعد مذکورہ گھر والدہ کے صرف نام کرنے سے اکیلی والدہ اس متروکہ مکان کی مالک نہیں بنی بلکہ یہ مکان بدستور والد مرحوم کا ترکہ ہے، اس میں وراثت کے احکام جاری ہوں گے اور اس گھر میں ان کے تمام وارثوں کا حصہ ہے، باقی مرحوم والد کا ترکہ تقسیم کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ اولاً ان کے ترکہ میں سے ان کی تجہیز و تکفین کے اخراجات ادا کیے جائیں، پھر اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرضہ ہو تو اس کو کل ترکہ سے ادا کیا جائے، اس کے بعد اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کو بقیہ ترکہ کے ایک تہائی حصے میں سے نافذ کرنے کے بعد بقیہ ترکہ کو 80 حصوں میں تقسیم کر کے 10 حصے مرحوم کی بیوہ کو، 14 حصے کر کے ہر ایک بیٹے کو اور 7 حصے کر کے ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔
صورتِ تقسیم یہ ہے:
8 / 80
| بیوہ | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹی | بیٹی |
| 1 | 7 | |||||
| 10 | 14 | 14 | 14 | 14 | 7 | 7 |
یعنی 9250000 میں سے 1156250 روپے مرحوم کی بیوہ کو، 1618750 روپے ہر ایک بیٹے کو اور 809375 روپے ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801101012
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن