
میری اہلیہ کا حال ہی میں انتقال ہو گیا ہے، ان کے ورثاء میں میں (شوہر)، دو بیٹیاں، تین باپ شریک بھائی، اور دو باپ شریک بہنیں شامل ہیں، مرحومہ کے والدین ان کی زندگی ہی میں وفات پا چکے تھے،میں نے اپنی ذاتی رقم سے ایک پلاٹ خریدا تھا، اور نیت یہ تھی کہ اس پلاٹ کو بعد میں بیچ کر بچوں کی شادی کے اخراجات پورے کیے جائیں گے، البتہ میں نے یہ پلاٹ اپنی اہلیہ کے نام پر منتقل کر دیا تھا،اس کی وجہ یہ تھی کہ میری عمر زیادہ تھی اور اہلیہ کی عمر مجھ سے کم تھی،تو میں نے کہا کہ میری زندگی کا کیا بھروسہ اس لیے آپ کے نام کردیتاہوں ۔
اب میری اہلیہ کی میراث تقسیم کرنی ہے، اس کے حوالےسے کچھ چیزیں معلوم کرنی ہیں:
(1)میری اہلیہ کے ترکہ کیسے تقسیم ہوگی؟ کیا میری اہلیہ کے باپ شریک بہن بھائیوں کو اس کی میراث میں حصہ ملے گا ؟
(2) مذکورہ پلاٹ کہ جس کو میں نے اپنی اہلیہ کے صرف نام کردیاتھاکیامیری اہلیہ کے ترکہ میں شمار ہوگا؟
(1)صورتِ مسئولہ میں سائل کی اہلیہ کے ترکہ میں اس کے باپ شریک بہن بھائیوں کو بھی ان کے شرعی حصے کے مطابق میراث میں حصہ ملے گا۔
مرحومہ کے ترکہ کی شرعی تقسیم اس طرح ہوگی، کہ کل ترکہ میں سے سب سے پہلے مرحومہ کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیزو تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد، اگر مرحومہ پر کوئی قرضہ ہواس کو کل ترکہ سے ادا کرنے کے بعد، اگر مرحومہ نےکوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی ترکہ سے اس کو پوراکرنے کے بعد، باقی ماندہ کل ترکہ منقولہ و غیرمنقولہ کو 96 حصوں میں تقسیم کرکے 24 حصے مرحومہ کے شوہر یعنی سائل کو، 32 حصے مرحومہ کی ہر ایک بیٹی کو ،دو حصے مرحومہ کے ہر ایک باپ شریک بھائی کو اور ایک حصہ مرحومہ کی ہرایک باپ شریک بہن کوملے گا ۔
صورت تقسیم یہ ہے :
مرحومہ:96/12
| شوہر | بیٹی | بیٹی | باپ شریک بھائی | باپ شریک بھائی | باپ شریک بھائی | باپ شریک بہن | باپ شریک بہن |
| 3 | 4 | 4 | 1 | ||||
| 24 | 32 | 32 | 2 | 2 | 2 | 1 | 1 |
یعنی فیصد کے اعتبار سے 25 فیصد مرحومہ کےشوہر کو ،33.33 فیصدمرحومہ کی ہر ایک بیٹی کو ،2.08فیصد مرحومہ کے ہر ایک باپ شریک بھائی کو اور 1.04فیصدمرحومہ کی ہر ایک باپ شریک بہن ملیں گے۔
(2)واضح رہے کہ انسان کا اپنی زندگی میں اپنی جائیداد میں سے کسی کو کچھ دینا ہبہ (گفٹ) کہلاتا ہے،اور ہبہ (گفٹ) کے مکمل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ واہب (ہبہ کرنے والا) موہوبہ چیز (جس چیز کا ہبہ کیا جارہاہے) کو موہوب لہ (جس کو ہبہ کررہا ہے) کے نام کرنے کے ساتھ اس کا مکمل قبضہ اور تصرف بھی دے دے، اور ہبہ کے وقت موہوبہ چیز سے اپنا تصرف مکمل طور پر ختم کردے، ورنہ شرعاً ہبہ درست نہیں ہوتا،چونکہ صورت مسئولہ میں سائل نے مذکورہ پلاٹ صرف اپنی اہلیہ کے نام کیا ہے اس کے مکمل قبضہ اور تصرف میں نہیں دیاہے اس لیے اس پلاٹ کی شرعی ملکیت سائل کی اہلیہ کی طرف منتقل نہیں ہوئی ،لہذا مذکورہ پلاٹ بدستور سائل ہی کی ملکیت شمار ہوگا، اور سائل کی اہلیہ کے انتقال کے بعد یہ پلاٹ اس کے ترکہ میں شامل نہیں ہوگا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے :
"الأخوات لأب وهن كالأخوات لأبوين عند عدمهن، كذا في الاختيار شرح المختار فللواحدة النصف وللأكثر الثلثان عند عدم الأخوات لأب وأم، ولهن السدس مع الأخت لأب وأم تكملة للثلثين ولا يرثن مع الأختين لأب وأم إلا أن يكون معهن أخ لأب فيعصبهن فيكون للأختين لأب وأم الثلثان، والباقي بين أولاد الأب للذكر مثل حظ الأنثيين، ولهن الباقي مع البنات أو مع بنات الابن، كذا في الكافي".
(كتاب الفرائض،الباب الثاني في ذوي الفروض،ج:6،ص: 450،ط: دارالفکربیروت)
در مختار میں ہے:
"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها."
(کتاب الهبة،ج:5،ص:590،ط: سعید)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض وأن يكون الموهوب مقسوما إذا كان مما يحتمل القسمة وأن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب ولا يكون متصلا ولا مشغولا بغير الموهوب."
(كتاب الهبة،الباب الأول تفسير الهبة وركنها وشرائطها وأنواعها وحكمها، ج:4، ص:374، ط:دارالفکر،بیروت)
فقط وللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701100976
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن