بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

تروایح کے ختم پر مٹھائی تقسیم کرنا اور اس کے لیے چندہ اکٹھا کرنا


سوال

اکثر مساجد میں آج کل ایک رواج بنا ہوا ہے کہ رمضان میں تراویح کے ختم پر مٹھائی وغیرہ تقسیم کی جاتی ہے، اور کہا جاتا ہے کہ یہ خوشی کا موقع ہے اس سے سب خوش ہو جاتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں، تو میرا سوال یہ ہے کہ:

1- اس موقع پر مٹھائی تقسیم کرنا درست ہے؟

2- اس مٹھائی کی تقسیم کے لیے چندہ اکٹھا کرنا صحیح ہے؟

3- اگر چندہ اکٹھا کرنے کے بجائے کوئی ایک فرد یا چند افراد مل کر اس موقع پر مٹھائی تقسیم کر دیں تو کیا یہ مناسب ہے؟

4- مسجد کمیٹی کا یا امام صاحب کا اس موقع پر ہر سال اہتمام سے مٹھائی تقسیم کرنا یا اس تقسیم پر خوش ہونا اور اس میں شریک ہونا درست ہے؟

جواب

1- تروایح میں ختم قرآن کے موقع پر مٹھائی وغیرہ تقسیم کرنا ضروری نہیں ہے، اگر کوئی ایک فرد یا چند لوگ چندہ کے بغیر اپنی خوشی سے     لازم اور ضروری سمجھے بغیر اخلاص کے ساتھ  مسجد کےآداب کی رعایت  رکھتے ہوئے، اس موقع پر   شیرینی وغیرہ تقسیم کردیں تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔

تاہم اگر ختم  پر مٹھائی تقسیم کرنے  کے لیے لوگوں کو چندہ دینے پر مجبور کیا جائے  اور بچوں کا  رش اور شوروغل ہوتا ہو، مسجد کا فرش خراب ہوتا ہو یا اسے لازم اور ضروری سمجھا جائے  تو اس عمل کو  ترک کردینا ضروری ہے۔

2 ،3-مٹھائی کی تقسیم کے لیے چندہ اکٹھا کرنا درست نہیں ہے، البتہ اگر کوئی ایک فرد یا چند افراد اپنی خوشی سے خود مٹھائی تقسیم کر دیں تو اس کی گنجائش ہے۔

4-   اگر اوپر ذکرکردہ شرائط کے مطابق  ہر سال  مسجد کی کمیٹی یا امام صاحب اس موقع پر مٹھائی تقسیم کرتے ہیں تو اس کی گنجائش ہے لیکن اس قدر اہتمام کرنا درست نہیں ہے کہ لوگ اس کو لازم سمجھنے لگیں ،نیز اگر اوپر ذکرکردہ شرائط کے مطابق مٹھائی تقسیم کی جائے تو  اس تقسیم پر خوش ہونا اور اس میں شریک ہونا درست ہے، کیوں کہ یہ ایک سنت عمل ہونے پر جائز طریقہ سے خوشی کا اظہار ہے۔

موسوعہ فقہیہ کویتیہ میں ہے:

"لا خلاف بين الفقهاء في أن حل أموال الناس منوط بالرضا، لقوله تعالى: {يا أيها الذين آمنوا لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم} ولقول النبي صلى الله عليه وسلم: إنما البيع عن تراض  وقوله: ولا يحل لامرئ من مال أخيه إلا ما طابت به نفسه، وفي رواية: لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس."

(حرف الراء، رضا، ج: 22، ص: 232، ط: دار السلاسل)

وفیہ ایضا:

"وعن عائشة رضي الله عنها قالت: " إن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمر بالمساجد أن تبنى في الدور، وأن تطهر وتطيب. وعن واثلة بن الأسقع رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم: ‌جنبوا ‌مساجدكم ‌صبيانكم ومجانينكم وشراءكم وبيعكم وخصوماتكم ورفع أصواتكم وإقامة حدودكم وسل سيوفكم، واتخذوا على أبوابها المطاهر - المراحيض - وجمروها في الجمع."

(حرف المیم، مسجد، ج: 37، ص: 195، ط: مطابع دار الصفوة)

 العقود الدریہ فی الفتاوی الحامدیہ میں ہے:

"‌كل ‌مباح يؤدي إلى زعم الجهال سنية أمر أو وجوبه فهو مكروه."

(‌‌مسائل وفوائد شتى من الحظر والإباحة وغير ذلك، ج: 2، ص: 333 ، ط: دارالمعرفة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708101046

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں