بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 محرم 1446ھ 19 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

ٹریول ایجنٹ کا کمیشن لینا


سوال

ہمارا ایک ٹریویلز ہے ،جس کے ذریعے سے ٹیکسی گاڑیاں چلتی ہیں اور ہم اپنے ٹریولزسے گاڑی والے کو سواریاں دیتے ہیں، اب میرا سوال یہ ہے کہ میں مثلا سواریوں سے دس ہزار روپے لیتا ہوں گاڑی کے اور گاڑی والے کو آٹھ ہزار روپے دیتا ہوں اور یہ معاملہ میرے اور گاڑی والے کے درمیان رہتا ہے اور سواریوں کو یہ پتہ رہتا ہے کہ ہماری گاڑی دس ہزار میں بک ہوئی  ہے تو کیا میرے لیے دو ہزار روپے کا کمیشن لینا شریعت کی رو سے کیسا ہے ؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں  گاڑی فراہم کرنے پر  متعین کمیشن لینا شرعاً جائز ہے ۔

فتاوی شامی میں ہے :

"مطلب في أجرة الدلال [تتمة]

قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة."

(کتاب الاجارۃ،ج:6،ص:63،سعید)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144511102388

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں