بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ٹریفک حادثات میں جانی ومالی نقصان کی صورت میں دیت اور مالی تاوان کا حکم


سوال

قتل عمد اور قتل خطاء میں کیا فرق ہے؟

اسلام میں قتل عمد اور قتل خطاء کی کیا دیت ہے؟سرکاری اداروں اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی وجہ سے جو حادثات ہوتےہیں اور اس کے نتیجے میں جو جانی ومالی نقصان لوگوں کو پہنچتا ہے اس پر دیت لی جاسکتی ہے؟اور مال نقصان پر جرمانہ لیا جاسکتا ہے؟

جواب

قتل عمد وہ قتل ہے جس میں  کوئی شخص کسی کو بالارادہ ایسے ہتھیار یا   اوزار  سے قتل کرے جو قتل کے آلہ کو طور پر استعمال ہوتا ہویا وہ  جسم کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی استعداد رکھتا ہو۔

جبکہ قتل خطاء میں قتل کاارادہ نہیں ہوتا اور اس کی دو صورتیں ہیں:

1:خطا فی الفعل:گولی تو شکار پر چلائی ،مگر نشانہ چوک گیا اور گولی انسان کو جالگی۔

2.. خطا فی القصد:شکار سمجھ کر گولی چلائی، مگرپتہ چلا وہ شکار نہیں انسان تھا۔

قتل عمد میں قصاص لازم ہے،دیت نہیں،جبکہ قتل خطاء میں دیت لازم ہے،جس کی مقدار سونے کے اعتبار سے  ایک ہزار (1000) دینار یعنی 375 تولہ سونا جس کا اندازا جدید پیمانے سے 4 کلو 374 گرام سونا یا اس کی قیمت بنتی ہے،  اور اگر دراہم (چاندی) کے اعتبار سے ادا کرنا ہو تو دس ہزار (10000) درہم یعنی 2625 تولہ چاندی جس کا اندازا جدید پیمانے سے 30 کلو 618 گرام چاندی یا اس کی قیمت بنتی ہے۔

ٹریفک کے قوانین کاا حترام کرنا ہر شہری پر ضروری ہے،  وہ قوانین جو شریعت کے مخالف نہیں ہیں  ،انتطامی امور کی درستگی کے لیے بنائے گئے ہیں،ان کا ماننا ہر شہری پر لازم ہے اور اس کی خلاف ورزی جائز نہیں ہے،لہذا اگر ٹریفک کے قوانین کی خلاف ورزی کی وجہ سے حادثہ میں   کسی کی جان چلی جائے تو شرعا وہ قتل عمد شمار نہیں ہوگا،کیونکہ ٹریفک کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والا کسی کو جان کر قتل نہیں کرتا اور نہ ہی گاڑی شرعی اعتبار سے آلہ قتل ہے،البتہ یہ قتل خطا شمار ہوگا۔حادثہ کی صورت میں مالی  نقصان اور زخمی ہونے کی صورت میں علاج کا خرچہ غلطی کرنے والے کے مال سے ادا کیا جائے گا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"أما العمد فما تعمد ضربه بسلاح أو ما يجري مجرى السلاح في تفريق الأجزاء كمحدد الخشب والحجر وليطة القصب والنار كذا في الكافي وموجب ذلك المأثم والقود إلا أن يعفو الأولياء، أو يصالحوا، ولا كفارة فيه عندنا كذا في الهداية......

والخطأ على نوعين: خطأ في القصد وهو أن يرمي شخصا يظنه صيدا فإذا هو آدمي أو يظنه حربيا فإذا هو مسلم وخطأ في الفعل وهو أن يرمي غرضا فيصيب آدميا كذا في الهداية وموجب ذلك الكفارة والدية على العاقلة، وتحريم الميراث وسواء قتل مسلما، أو ذميا في وجوب الدية والكفارة، ولا مأثم فيه في الوجهين سواء كان خطأ في القصد، أو خطأ في الفعل هكذا في الجوهرة النيرة."

(کتاب الجنایات،ج6،ص3،4،ط:دار الفکر)

الفقه الإسلامي وأدلته میں ہے:

"أما إذا کان المخطئ أحد المتصادمین کان الضمان علیه باتفاق الفقهاء".

(‌‌‌‌القسم الخامس: الفقه العام،الباب الثالث: الجنايات وعقوباتها: القصاص والديات،ج7،ص5790،ط؛دار الفکر)

فتح القدیر میں ہے:

"(قال: ومن قاد قطاراً فهو ضامن لما أوطأ)، فإن وطئ بعير إنساناً ضمن به القائد والدية على العاقلة؛ لأن القائد عليه حفظ القطار كالسائق وقد أمكنه ذلك وقد صار متعدياً بالتقصير فيه، والتسبب بوصف التعدي سبب للضمان، إلا أن ضمان النفس على العاقلة فيه وضمان المال في ماله (وإن كان معه سائق فالضمان عليهما)؛ لأن قائد الواحد قائد للكل، وكذا سائقه لاتصال الأزمة، وهذا إذا كان السائق في جانب من الإبل، أما إذا كان توسطها وأخذ بزمام واحد يضمن ما عطب بما هو خلفه، ويضمنان ما تلف بما بين يديه؛ لأن القائد لايقود ما خلف السائق لانفصام الزمام، والسائق يسوق ما يكون قدامه".

(کتاب الجنایات،ج10،ص330،ط؛دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710100576

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں