
trading paradigm پاکستان میں قائم ایک سرمایہ کاری و تجارت پر مبنی کمپنی ہے جو USAسے اعلی معیار کی بیوٹی اور اسکن کیئر مصنوعات امپورٹ کرتی ہے، اور پاکستان میں اسے ری سیلرز اور کلائنٹس کو فروخت کرتی ہے، ہمارا طریقہ کار درج ذیل اصولوں پر مبنی ہے:
تحریری معاہدہ:تمام سرمایہ کاروں کے ساتھ قانونی اسٹامپ پیپر پر واضح اور شفاف تحریری معاہدہ کیاجاتاہے جس میں منافع کی شرائط، کمیشن ، اخراجات ، سرمایہ کی مدت اور دیگر نکات وضاحت سے بیان کیے جاتے ہیں ۔
ملکیت پر مبنی تجارت:
ہم صرف ان پروڈکٹس کی تجارت کرتے ہیں جن کی اصل ملکیت کمپنی کے پاس ہوتی ہے، یعنی ہم سامان امپورٹ کر کے اس کو اپنے گودام میں رکھتے ہیں، پھر فروخت کرتے ہیں، کسی قسم کے فیوچر یا معاہداتی بیچنے کا کام نہیں کرتے ، صرف وہی سامان بیچا جاتا ہے جو موجود ہو۔
منافع کی تقسیم کا طریقہ: مہینے کے آخر میں مکمل حساب کتاب ہوتاہے کمپنی اپنے دفتری اخراجات ، امپورٹ چارجز اور کمیشن منہا کرتی ہے، باقی خالص منافع سرمایہ کاروں میں ان کی سرمایہ کاری کے تناسب سے تقسیم ہوتاہے ۔منافع فکس نہیں ہوتا، بلکہ مارکیٹ کی سیلز ،اخراجات اور دیگر عوامل کی بنیاد پر ویری ایبل ہوتاہے، کوئی ضمانت یا یقینی ریٹرن نہیں دیا جاتا۔
سرمایہ کار، سرمایہ کے تناسب سے منافع حاصل کرتے ہیں، کمپنی بنانے والوں کا بھی سرمایہ لگا ہے،وہ بھی منافع سے حصہ لیتے ہیں۔کمپنی بنانے والے منافع کا ایک حصہ اپنی محنت اور رسک کے بدلے لیتے ہیں، خالص منافع کی تقسیم آفس کے اخراجات اور ایجنٹس کے کمیشن نکال کر کی جاتی ہے۔
کمیشن: کمیشن پہلے سے مقرر شدہ ہوتا ہے اور یہ معاملات کی تعداد یا حجم پر مبنی ہوتا ہے۔ کمیشن وہ لوگ لیتے ہیں جو معاملات کو انجام دیتے ہیں (مثلاً بروکرز یا ایجنٹس)۔اور کمیشن عام طور پر معاملات کی قیمت کا ایک حصہ ہوتا ہے (مثلاً 1% یا 2%)۔ یہ کمیشن کمپنی کی طرف سے ادا کیا جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ کاروبار درست ہے؟
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ کمپنی کے جو نمائندے کمپنی میں سرمایہ لگانے کے ساتھ ساتھ کام بھی کرتے ہیں ان کے لیے دیگر سرمایہ کاروں کی طرح سرمایہ لگانے کی وجہ سے فیصد کے حساب سے نفع لینا تو جائز ہوگا،البتہ کمپنی میں کام کرنے کی وجہ سے تن خواہ مقرر کر کے لینا یا کمیشن کے نام پر زائد رقم لینا جائز نہیں ہوگا۔ اس لیے کہ سرمایہ لگانے والے تمام افراد آپس میں ایک دوسرے کے لیے شریک ہیں اوراس صورت میں شریک کاا جیر ہونا لازم آتاہے ، جب کہ شرکت اور اجارہ دونوں ایک عقد میں جمع نہیں ہوسکتے۔
تاہم اس کی جائز صورت یہ ہوسکتی ہے کہ کام کرنے والے شرکاء اپنے لیے دیگر شرکاء کی رضامندی سے منافع میں سے کچھ فیصد دیگر(کام نہ کرنے والے )شرکاء کے مقابلہ میں زیادہ مقرر کر لیں ۔
مذکورہ بالا شرائط کا لحاظ رکھنے کے ساتھ ساتھ جن مصنوعات کی خریدو فرخت کی جاتی ہو ان میں کوئی حرام چیز شامل نہ ہو اور دیگر کوئی غیر شرعی امر نہ پایاجاتاہوتو ایسی صورت میں مذکورہ کمپنی کا کاروباراور اس میں کام کرنا جائز ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"وإن شرطا الربح للعامل أكثر من رأس ماله جاز أيضا على الشرط ويكون مال الدافع عند العامل مضاربة، ولو شرطا الربح للدافع أكثر من رأس ماله لا يصح الشرط ويكون مال الدافع عند العامل بضاعة لكل واحد منهما ربح ماله والوضيعة بينهما على قدر رأس مالهما أبدا هذا حاصل ما في العناية اهـ ما في النهر."
(كتاب الشركة، مطلب في توقيت الشركة، ج:4، ص:312، ط:سعيد)
وفيه ايضا:
"(ولو) استأجره (لحمل طعام) مشترك (بينهما فلا أجر له) ؛ لأنه لا يعمل شيئا لشريكه إلا ويقع بعضه لنفسه فلا يستحق الأجر (كراهن استأجر الرهن من المرتهن) فإنه لا أجر له لنفعه بملكه."
(كتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة، ج:6، ص:60، ط:سعيد)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144707102213
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن