
میرے والد صاحب کا انتقال 1997 میں ہوا، ان کی میراث تقسیم نہیں کی گئی،اور ابھی والدہ کا بھی رمضان میں انتقال ہوچکا ہے، دونوں کے والدین ان کے انتقال سے پہلے فوت ہو چکے تھے، ان کی میراث میں ایک تین منزلہ مکان ہے، ہم تین بھائی اور پانچ بہنیں ہیں، ترکہ ہمارے درمیان کیسے تقسیم ہو گا،میری بہنیں اس وقت مجھے حصہ نہیں دینا چاہتیں، شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟
واضح رہے کہ کسی کے انتقال کے بعد اس کا ترکہ تمام شرعی ورثاء میں مشترک ہو جاتاہے،کسی ایک وارث کے مطالبے پر اس کو تقسیم کرنا لازم ہو جاتاہے، اور اگر کوئی ایک یا بعض ورثاء اس پر قبضہ کر لیں یا تقسیم نہ کریں تو یہ غصب کے زمرے میں آتا ہے جو ناجائز و حرام ہے،اور اس کی احادیث مبارکہ میں بڑی وعیدیں آئی ہیں،ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص(کسی کی) بالشت بھر زمین بھی از راہِ ظلم لے گا، قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی زمین اس کے گلے میں طوق کے طور پرڈالی جائے گی،لہذا صورت مسئولہ میں سائل کی بہنوں کو چاہیے کہ وہ سائل کے مطالبے پر والد کے ترکہ کو تقسیم کریں اور ہر ایک کو اس کا حق دیں، اور آخرت میں ان وعیدوں کے مصداق بننے سے بچ جائیں۔
اور سائل کے والدین کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ مرحومین کے ترکہ سےحقوق متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات ادا کرنے کےبعد اگر مرحومین پر کوئی قرضہ ہو تو اس کو کل ترکہ سے ادا کرنے کے بعد،اگر مرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کوبقیہ ترکہ کے ایک تہائی ترکہ سے ادا کرنے کے بعد بقیہ کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو 11حصوں میں تقسیم کر کے 2،2 حصے ہر ایک بیٹے کو اور ایک،ایک حصہ ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔
صورت تقسیم یہ ہے:
میت(سائل کے والدین):11
| بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹی | بیٹی | بیٹی | بیٹی | بیٹی |
| 2 | 2 | 2 | 1 | 1 | 1 | 1 |
یعنی کل ترکہ میں سے 18.181فیصد ہر ایک بیٹے کواور 9.090فیصد ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين."
(كتاب البيوع ، باب الغصب والعارية ، الفصل الأول، ج:1، ص:254، ط:قديمي)
"ترجمہ:حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص(کسی کی) بالشت بھر زمین بھی از راہِ ظلم لے گا، قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی زمین اس کے گلے میں طوق کے طور پرڈالی جائے گی۔"
فتاوی شامی میں ہے :
"(وقسم) المال المشترك (بطلب أحدهم إن انتفع كل) بحصته (بعد القسمة وبطلب ذي الكثير إن لم ينتفع الآخر لقلة حصته) وفي الخانية: يقسم بطلب كل وعليه الفتوى، لكن المتون على الأول فعليها للعول (وإن تضرر الكل لم يقسم إلا برضاهم) لئلا يعود على موضوعه بالنقض."
(کتاب القسمة، ج:6، ص:260 ،ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100057
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن