بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نلکے کے پانی میں بو کا محسوس ہونا


سوال

اگر ایک ٹوٹی کھولی جائے تو اس کے پانی میں بدبو محسوس ہوتی ہے، ناک اس ٹوٹی کے قریب کی جائے تو بدبو محسوس ہوتی ہے، لیکن اگر ہاتھ میں پانی لیا جائے یا گلاس میں پانی لے کر پھر سونگھا جائے تو بدبو محسوس نہیں ہوتی،اور بعض اوقات اگر ہاتھ میں پانی لیا جائے تو پانی میں تھوڑی بہت بدبو محسوس ہوتی ہے، لیکن تھوڑی دیر بعد وہ بدبو خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔
تو اس صورت میں پانی کے پاک اور ناپاک ہونے کا کیا حکم ہوگا؟
 ٹینکی ایک ہی ہے، اور اسی سے سارے نلکوں میں پانی جاتا ہے، اور باقی نلکوں میں پانی ٹھیک ہے، صرف اسی ایک ٹوٹی میں اس طرح پانی کا مسئلہ آ رہا ہے۔

جواب

پانی اس وقت تک پاک کہلاتا ہے جب تک نجاست کی وجہ سےاس کے رنگ، بو یا ذائقہ میں تبدیلی نہ آئے۔

مسئولہ صورت کے مطابق چونکہ ٹینکی ایک ہے اور باقی تمام نلکوں میں آنے والاکا پانی بالکل درست ہے، اس لیے اصل پانی پاک ہی کہلاۓ گا، صرف ایک نلکے میں بدبو محسوس ہونےيا بسااوقات ہاتھ میں لینے کے بعد اس بدبو کے ختم ہو جانے سےبظاہریہ معلوم ہوتا کہ یہ بدبو بذاتِ خودپانی کی نہیں بلکہ کسی عارضی خارجی سبب (جیسے پائپ یا نلکےمیں جمع ہوا یا کسی دوسرےعارض) سے پیدا ہوئی ہے۔

نیزاگر پانی میں بو تھوڑی دیر بعد خود بخود ختم ہو جاتی ہے، تو یہ نجاست کی مستقل علامت نہیں سمجھی جائے گی، اس سے پانی ناپاک نہیں ہوتا،اسی طرح اگر پائپ یا نلکے میں پانی کچھ دیر تک ٹھہرا رہے اور اس کی وجہ سے معمولی بدبو پیدا ہو جائے، تو یہ پانی کی طہارت پر اثر نہیں ڈالتی۔

لہٰذا سوال میں ذکر کردہ صورتِ حال کے مطابق پانی پاک ہے اور وضو، غسل یا دیگر استعمال کے لیے اس کا استعمال درست ہے،محض عارضی بدبو کی بنیاد پر اسے ناپاک قرار نہیں دیا جاسکتا۔

الاختیار لتعلیل المختارمیں ہے:

"(تجوز الطهارة بالماء الطاهر في نفسه المطهر لغيره، كالمطر وماء العيون والآبار وإن تغير بطول المكث) والأصل فيه قوله تعالى: {وأنزلنا من السماء ماء طهورا} [الفرقان: 48] . وتوضأ رسول الله صلى الله عليه وسلم من آبار المدينة وقال: «الماء طهور لا ينجسه شيء إلا ما غير طعمه أو لونه أو ريحه» ، وطول المكث لا ينجسه فيبقى طاهرا."

(كتاب الطهارة، حكم الماء الراكد إذا وقعت فيه نجاسة، ج: 1، ص: 14، ط: دار الكتب العلمية)

البحر الرائق میں ہے:

"قوله: ‌أو ‌أنتن ‌بالمكث) أي يجوز الوضوء بما أنتن بالمكث، وهو الإقامة والدوام .....قيدبقوله بالمكث؛ لأنه لو علم أنه أنتن للنجاسة لا يجوز به الوضوء، وأما لو شك فيه، فإنه يجوز ولا يلزمه السؤال عنه."

(كتاب الطهارة، ج: 1، ص: 71، ط: دار الكتاب الإسلامي)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144708101099

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں