
کسی نے دو ائیر کولر مدرسے میں طلباء کے لیےدیے ہیں،کیا ان کولر کو مدرسے میں استاذ طلباء کے بغیر اپنے ذاتی استعمال کےلئے چلاسکتا ہے یا نہیں؟اسی طرح اگر باہر کا کوئی مولانا مہمان بن کر مدرسے میں آجائے تو اس کےلئے کولر استعمال کرنے کا کیا حکم ہے؟
صورت مسئولہ میں ائیر کولر دینے والے نے اگر صراحتایہ کہا ہو کہ یہ ائیر کولر صرف طلباء کے لیے ہیں تو اس صورت میں طلباء کی اجازت کے بغیر اساتذہ یا باہر کے مہمان کے لیے ائیرکولر کا استعمال کرنا درست نہیں ہوگا،البتہ دینے والے نے اگر صراحت نہ کی ہو بلکہ مدرسہ کے نام پر دیے ہوں یا ساتھ میں اساتذہ کےلیےبھی استعمال کی اجازت دی ہو تو اس صورت میں اساتذہ کے لیے استعمال کرنا جائز ہے، تاہم اس صورت میں اساتذہ کا ایئرکولر اپنے استعمال کے لیے مختص کرلینا اور طلباء کو اس سے محروم رکھنا درست نہیں ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"صرحوا بأن مراعاة غرض الواقفين واجبة."
(کتاب الوقف، مطلب مراعاۃ غرض الواقفین واجب، ج:4، ص: 445، ط:سعيد )
وفيه ايضاً:
"شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة."
(كتاب الوقف، مطلب في قولهم شرط الواقف كنص الشارع، ج:4، ص:433، ط:سعيد)
البحرالرائق میں ہے:
"وجوب اتباع شرط الواقف على الناظر."
(كتاب الزكاة، باب مصرف الزكاة، ج:2، ص:266، ط:دار الكتاب الإسلامي)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144701100613
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن