
ہمارے ہاں یہ رواج پایا جاتا ہے کہ لڑکی والے مہر کے علاوہ لڑکے سے کچھ رقم شادی سے پہلے لیتے ہیں، اور اُس رقم سے لڑکی کے جہیز کا سامان خرید کر لڑکی کے گھر بھیج دیتے ہیں۔ عرف میں ہم اسے تحفہ سمجھتے ہیں۔اب ایک جگہ اسی طرح معاملہ ہوا۔ اس کے بعد نکاح ہوا، میاں بیوی تقریباً ایک سال تک ساتھ رہے۔ اب بیوی علیحدہ ہونا نہیں چاہتی اور کئی بار کہہ چکی ہے کہ میں شوہر کے پاس واپس جانا چاہتی ہوں، لیکن شوہر کہتا ہے کہ میں نے خلع دے دیا ہے،میرے دیے ہوئے پیسوں سے جو سامان خریدا گیا ہے وہ واپس لے لو، اُس کے پیسے مجھے دے دو، اس کے بعد میں طلاق دوں گا۔ گویا شوہر کے نزدیک لفظ "خلع" کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔
اب سوال یہ ہے کہ: شوہر کے یہ کہنے سے کہ "میں نے خلع دے دیا ہے"، کیا طلاق واقع ہو جاتی ہے یا نہیں؟ خلع اور طلاق میں کیا فرق ہے؟اور کیا شوہر کے دیے ہوئے پیسوں سے جو سامان لڑکی والوں نے خریدا اور لڑکی کو جہیز میں دے دیا، وہ سامان واپس لینا اور اس کی قیمت شوہر کو دینا شوہر کا حق ہے ؟
وضاحت :سائل سے جب شوہر کے نیت کے بارے میں پوچھاگیا تو اس نے کہاکہ شوہر کہتا ہے: نہ میں چھوڑوں گا، نہ طلاق دوں گا، میں نے خلع دیا ہے۔
صورتِ مسئولہ میں اگر شوہر نے بیوی سے "میں نے خلع دے دیا ہے" کا لفظ طلاق دینے کی نیت سے کہا ہے تو بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو گئی ہے، اور نکاح ختم ہو گیا ہے، اور بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ہے۔ اب شوہر کے لیے رجوع کرنا جائز نہیں ہے، البتہ فریقین رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔ اور اگر شوہر نے "میں نے خلع دےدیا ہے" سے طلاق دینے کی نیت نہیں کی، تو طلاق واقع نہیں ہوگی، نکاح بدستور برقرار رہے گا۔
تاہم شوہر کے پیسے سے جو سامان خریدا گیا ہے، طلاق ہو یا نہ ہو، دونوں صورتوں میں اگر وہ سامان موجود ہو تو شوہر اسے واپس لے سکتا ہے، لیکن اگر یہ تحفہ کی طور پر بیوی کو دیا جاتا ہے، پھر اس کا واپس لینا درست نہیں ہے۔
نیز طلاق اور خلع میں فرق یہ ہے کہ طلاق عقدنکاح ختم کرنے کے لیے شوہر کی طرف سے ہوتی ہے، جبکہ خلع میں عموماً مطالبہ عورت کی طرف سے ہوتا ہے۔ طلاق میں شوہر کا فیصلہ مستقل ہوتا ہے یعنی بیوی کی رضامندی پر موقوف نہیں ہوتا، جبکہ خلع میں میاں بیوی دونوں کی رضامندی ضروری ہوتی ہے۔
البحر الرائق میں ہے:
"وأما حكم الخلع فإن كان بغير بدل بأن قال خالعتك ونوى به الطلاق فحكمه أن يقع الطلاق ولا يسقط شيء من المهر والنفقة الماضية."
(کتاب الطلاق،باب النفقة،ج:4،ص:206،ط:رشیدیہ)
ہندیہ میں ہے:
"ولو أخذ أهل المرأة شيئا عند التسليم فللزوج أن يسترده؛ لأنه رشوة، كذا في البحر الرائق."
(كتاب النكاح،الباب السابع،الفصل السادس عشر،ج:1،ص:327،ط:دارلفکر)
وفيه أيضاً :
"وإذا وهب أحد الزوجين لصاحبه لا يرجع في الهبة، وإن انقطع النكاح بينهما."
(کتاب الهبة،الباب الخامس،ج:4،ص:386،ط:دار الفکر)
بدائع الصنائع میں ہے:
"(وأما) الكناية فنوعان:...أما النوع الأول فهو كل لفظ يستعمل في الطلاق ويستعمل في غيره نحو ...خالعتك - ولم يذكر العوض...قالوا: إن الكنايات أقسام ثلاثة: في قسم منها لا يدين في الحالين جميعا؛ لأنه ما أراد به الطلاق لا في حالة مذاكرة الطلاق وسؤاله ولا في حالة الغضب والخصومة، وفي قسم منها يدين في حال الخصومة والغضب ولا يدين في حال ذكر الطلاق وسؤاله، وفي قسم منها يدين في الحالين جميعا...(أما) القسم الأول فخمسة ألفاظ: " أمرك بيدك " " اختاري " " اعتدي " " استبرئي رحمك " " أنت واحدة "...(وأما) القسم الثاني فخمسة ألفاظ أيضاخلية " " بريئة " " بتة " " بائن " " حرام "...(وأما) القسم الثالث فبقية الألفاظ التي ذكرناها؛ لأن تلك الألفاظ لا تصلح للشتم وتصلح للتبعيد والطلاق؛ لأن الإنسان قد يبعد الزوجة عن نفسه حال الغضب من غير طلاق وكذا حال سؤال الطلاق فالحال لا يدل على إرادة أحدهما فإذا قال: ما أردت به الطلاق فقد نوى ما يحتمله لفظه، والظاهر لا يخالفه فيصدق في القضاء."
(کتاب الطلاق،فصل في الكناية في الطلاق،ج:3،ص:106/107،ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701101221
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن