بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

تو میری طرف سے فارغ ہے؟ کیا ان الفاظ سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟


سوال

میرے اور شوہر کے درمیان جھگڑا ہوا، جھگڑے کے دوران ایک یا ڈیڑھ سال قبل میرے شوہر نے مجھ سے کہا کہ:" تم میری طرف سےفارغ ہو"اس بات پر گھر کے تین چار افراد گواہ بھی موجود ہیں، ایک مرتبہ میں نے اپنے گھر والوں سے  اپنے شوہر کے سامنےکہا یہ کہ میرے حقوق ادا نہیں کرتا، تو اس نے کہا کہ میں حقوق کیسے ادا کروں!یہ تو میری طرف سے فارغ ہے، اور ایک مرتبہ مجھے کہا تو اپنی باپ کے گھر چلی جا،میں وہاں پرمولوی کو لے کر آؤں گا ،ہم دوبارہ نکاح  کریں گے۔شوہر کہہ رہا ہے کہ یہ جملہ اس وقت میں نے کہا تھا جب مجھے ان الفاظ کے متعلق علم نہیں تھا کہ یہ طلاق کےلیے استعمال ہوتےہیں لڑکی کے گھر والوں نے مطالبہ کیا تو میں نے کہا چلو مولوی لیکر آتا ہوں وہ نکاح پڑھا لے گا۔

 ایک یا ڈیڑھ سال قبل شوہر نے جب مذکورہ الفاظ کہے ہیں اس وقت سے میں میکے میں رہ رہی ہوں ۔

وضاحت: شوہر کا بیان یہ ہے کہ مذکورہ الفاظ سے میری کوئی نیت نہیں تھی۔

اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا میں اپنے شوہر کے ساتھ اپنی باقی زندگی گزار سکتی ہوں یا نہیں؟کیا مذکورہ الفاظ سے طلاق واقع ہوچکی ہے یا نکاح برقرار ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  "فارغ" کا لفظ طلاق کے لیے بطورِ کنایہ استعمال ہوتا ہے، اگر مذاکرہ یا مطالبہ طلاق ہو  یا نیت ہو تو اس سے طلاقِ بائن   واقع ہوجاتی ہے۔

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً سائلہ کے شوہر کا ان الفاظ " تم میری طرف سے فارغ ہو"  سے طلاق کی نیت نہیں تھی، اور نہ ہی مذاکرہ طلاق کے دوران کیا تھا،تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوئی ہے، نکاح بدستور برقرار ہے۔

الدرالمختار میں  ہے: 

"الكنايات (لا تطلق بها)قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب ........(يحتمل ردا، ونحو خلية برية حرام بائن) ومرادفها كبتة بتلة (يصلح سبا ......ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية)....(وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا (وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط) ويقعبالأخيرين وإن لم ينو لأن مع الدلالة لا يصدق قضاء في نفي النية لأنها أقوى لكونها ظاهرة، والنية باطنة".

(کتاب الطلاق،باب الکنایات،ج3،ص 297تا 303،سعید)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"والأحوال ثلاثة (حالة) الرضا (وحالة) مذاكرة الطلاق بأن تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها (وحالة) الغضب ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جوابا وردا فإنه لا يجعل طلاقا كذا في الكافي وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله اعتدي واختاري وأمرك بيدك فإنه لا يصدق فيها كذا في الهداية. وألحق أبو يوسف - رحمه الله تعالى - بخلية وبرية وبتة وبائن وحرام أربعة أخرى ذكرها السرخسي في المبسوط".

(کتاب الطلاق،الفصل الخامس في الكنايات في الطلاق،ج3،ص375،ط:رشیدیۃ)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144611101416

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں