
میری بہن کے شوہر کا مزاج ہر وقت غصے والا رہتا ہے، بے انتہا شک، لڑائی جھگڑے کا معمول ہے، تین بچوں کی وجہ سے بہن کمپرومائز کررہی ہے۔
ابھی حال میں اتوار والے دن تمام بہنوں کی عید کی دعوت تھی تو اس بہن کو بھی بلایا تھا، دعوت میں آنے سے پہلے بہن نے اپنے شوہر سے کہا کہ ”میں اپنی والدہ کے گھر دو دن رک جاؤں گی اور منگل والے دن والدہ اور باقی بہنوں اور ان کے بچوں کے ساتھ چڑیا گھر جاؤں گی بچوں کو لےکرتو آپ سے اجازت درکار ہے، اس پر شوہر نے کہا جو مرضی چاہے کرو ویسے بھی تو اپنی ماں کے گھر جاکر میرے نکاح میں نہیں ہوتی ہے تو میرے نکاح میں صرف میرے گھر ہوتی ہے“ اس کے بعد اتوار کو دعوت میں آئے اور چھوڑ کر چلے گئے، اب اس صورت میں نکاح کا کیا حکم ہے؟
صورتِ مسئولہ میں شوہر کے مذکورہ جملے ”جو مرضی چاہے کرو ویسے بھی تو اپنی ماں کے گھر جاکر میرے نکاح میں نہیں ہوتی ہے تو میرے نکاح میں صرف میرے گھر ہوتی ہے“ میں غصے کا اظہار ہے کہ اپنی والدہ کے گھر ہونے کی صورت میں میرا آپ پر زور اور تسلط نہیں ہوتا، لہذا شرعاً ان جملوں سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، دونوں کا نکاح برقرار ہے، البتہ آئندہ ایسے جملے بولنے میں احتیاط کی جائے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ولو قال لها لا نكاح بيني وبينك أو قال لم يبق بيني وبينك نكاح يقع الطلاق إذا نوى."
(كتاب الطلاق، الباب الثاني فى ايقاع الطلاق، الفصل الخامس في الكنايات في الطلاق، ج:1، ص:375، ط:رشيدية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710100624
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن