بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

تم اس حمل کو ضائع کرو اگر حمل کو ضائع نہیں کرو گی تو تو مجھ پر طلاق ہے طلاق ہے طلاق ہے


سوال

سائلہ حمل کےو قت بیمار تھی تو اس سائلہ کے شوہر نے کہا تم اس حمل کو ضائع کرو اگر حمل کو ضائع  نہیں کرو گی تو تو مجھ پر طلاق ہے طلاق ہے طلاق ہے،اس سائلہ نے حمل ضائع نہیں کیا اور بچی بھی پیدا ہوگئی تو اس پر طلاق واقع ہوگی یا نہیں ؟کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

جواب

صورت مسئولہ میں جب سائلہ کے شوہر نے سائلہ کو یہ کہا کہ ’’تم اس حمل کو ضائع کرو اگر حمل کو ضائع  نہیں کرو گی تو تو مجھ پر طلاق ہے طلاق ہے طلاق ہےــ‘‘ تو  ان الفاظ سے سائلہ کی تینوں طلاقیں  شرط پر معلق ہوگئیں تھیں ،اس کے بعد جب  سائلہ نے حمل ضائع نہیں کیا اور بچہ کی پیدائش ہوگئی تو  شرط پائی جانے کی وجہ سے  سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہوگئیں ہیں،سائلہ  اپنے شوہر  پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہے، اب رجوع جائز نہیں، نکاح ختم ہوگیا ہے۔

قرآن مجید میں ہے:

"{ الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ... فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ}."

[البقرة: 229، 230]

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق."

(کتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط، ج:1، ص:420، ط: دار الفکر)

فتاوى ہندیہ میں ہے:

"وإن كان الطلاق ثلاثًا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجًا غيره نكاحًا صحيحًا."

(کتاب الطلاق، باب الرجعة،1 /473 ،دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144608102331

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں