
ایک شخص نے آج سے تقریباً دو سال قبل اپنی بیٹی کا ایک لڑکے سے نکاح کیا تھا،پھر ان کے مابین اَن بَن ہونے کی وجہ سے اس نے یہ جملہ کہہ دیا کہ " اگر میں بیٹی اس لڑکے کو دوں (مطلب یہ ہے کہ وہ رخصتی نہیں کرنا چاہتاتھا اس لڑکے کے ساتھ، کیوں کہ وہ اس رشتے پر خوش نہیں تھا) تو میری بیوی مجھ پر تین طلاق ہے "۔
اب اس مسئلے کا شرعاً ایسا کیا حل ہے کہ اس بندے کی بیوی مغلظہ بھی نہ ہو، اور اس کی بیٹی کی رخصتی بھی ہو جائے؟کیوں کہ اب وہ شخص اپنی بیٹی کی رخصتی کرنا چاہتا ہے ۔
صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص نے جب یہ کہا کہ " اگر میں بیٹی اس لڑکے کو دوں ،(یعنی اس لڑکے کے ساتھ رخصتی کروں) تو میری بیوی مجھ پر تین طلاق ہے "، تو اگر وہ اپنی بیٹی کی رخصتی اس لڑکے کے ساتھ کرے گا تو اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔
البتہ تین طلاقوں سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ وہ شخص اپنی اہلیہ کوایک طلاقِ رجعی دے دے ، اور عدت میں رجوع نہ کرے یعنی ہم بستری، بوس و کنار یا شہوت کے ساتھ ہاتھ وغیرہ نہ لگائے، جب بیوی کی عدت ختم ہوجائے (یعنی تین ماہواریاں گزر جائیں یاحاملہ ہونے کی صورت میں وضع حمل کے بعد) تو وہ اپنی بیٹی کی اس لڑکے کے ساتھ رخصتی کر دے، ایسا کرنے سے یہ تعلیق ختم ہوجائے گی، اور چوں کہ اُس وقت اس کی بیوی اس کے نکاح میں نہیں ہوگی؛ اس لیے تین طلاقیں واقع نہیں ہوں گی اور شرط پوری ہوجائے گی، پھر دونوں میاں بیوی دوبارہ باہمی رضامندی سے مہر مقرر کرکے گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرلیں، لیکن آئندہ کے لیے شوہر کے پاس دو طلاقوں کا حق باقی ہوگا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وزوال الملك بعد اليمين بأن طلقها واحدة أو ثنتين لا يبطلها فإن وجد الشرط في الملك انحلت اليمين."
(كتاب الطلاق، الباب الرابع، الفصل الأول، ج: 1، ص: 416، ط: دارالفکر)
فتاوی شامی میں ہے:
"(وفيها) كلها (تنحل) أي تبطل (اليمين) ببطلان التعليق (إذا وجد الشرط مرة إلا في كلما."
(كتاب الطلاق، باب التعليق، ج: 3، ص: 352، ط: سعید)
وفیہ ایضاً:
"فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها."
(کتاب الطلاق ،باب التعلیق ،ج:3،ص:355،سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101046
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن