
میرے نانا نے ایک پلاٹ دو حصوں میں تقسیم کر کے اپنی دونوں بیٹیوں (یعنی میری والدہ اور خالہ) کو ہبہ دیا تھا، اور وصیت کی تھی کہ اگر کوئی بیچنا چاہے تو وہ دوسری بہن کو ہی بیچے۔ چنانچہ خالہ نے وہ پلاٹ 1988 میں اپنی بہن( میری والدہ )کو بیچ دیا، اور اس وقت اسٹامپ پیپر پر تحریری دستاویز بھی بنائی گئی، لیکن یہ معاملہ پٹواری کے دفتر میں رجسٹر نہیں کروایا گیا۔
خالہ کی صرف ایک بیٹی تھی، جس کا انتقال ہو چکا ہے، نہ اس کی کوئی اولاد تھی اور نہ شوہر زندہ ہے،اور خالو کا بھی انتقال ہوچکا ہے ۔
اب جب ہم اس پلاٹ کو پٹواری میں اپنے نام کروانا چاہتے ہیں، تاکہ اس کو بیچ کر آپس میں تقسیم کریں تو پٹواری عملہ کہتا ہے کہ فتویٰ لے کر آؤ، تب ہی ہم اسی حساب سے تمہارے نام منتقل کریں گے۔
اب سوال یہ ہے کہ میری والدہ کی یہ جائیداد تین بیٹوں اور دو بیٹیوں میں کیسے تقسیم ہوگی؟ جبکہ میرے والدکا والدہ کے بعد انتقال ہوچکا ہے ؟
نیز والد کے ورثاء بھی یہی ہیں: یعنی تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں ۔
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً سائل کے نانا نے اپنا مذکورہ پلاٹ دو حصوں میں تقسیم کر کے اپنی دو بیٹیوں کو الگ الگ کر کے ہر ایک کو اس کاحصہ مالکانہ قبضہ اور تصرف کیساتھ دےدیا تھا تو ہر ایک بیٹی اپنے حصے کی شرعاً مالک بن گئی تھی ،پھر جب سائل کی والدہ نے اپنی بہن سے اس کا حصہ خریدا تو وہ بہن کے حصے کی بھی مالک بن گئی تھی ،اگر چہ پٹواری کے پاس سرکاری کاغذات میں نام اور ملکیت تبدیل نہ کروائی ہو۔
اب چونکہ سائل کی والدہ کا انتقال ہوچکا ہے تو اب یہ مذکورہ مکمل پلاٹ سائل کی والدہ کا ترکہ ہے اور ان کے تمام ورثاء کے درمیان ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا،صورتِ مسئولہ میں والدہ کےبعد والد کا انتقال بھی ہو چکا ہے ،ان کا ترکہ بھی ان کے ورثاء میں تقسیم ہوگا،اور دونوں کے ورثاء ایک ہی ہیں؛ لہذا ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم والدین کے حقوقِ متقدمہ (تجہیز و تکفین) کے اخراجات نکالے جائیں گے۔ پھر اگران پر کوئی قرضہ ہے، تو وہ ادا کیا جائے گا۔ اس کے بعد اگرانہوں نے کوئی جائز وصیت کی ہو، تو وہ ایک تہائی مال میں سے پوری کی جائے گی۔اس کے بعد بقیہ کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو آٹھ حصوں میں تقسیم کر کے دو ،دو حصے ہر ایک بیٹے کو ملیں گے۔اور ایک، ایک حصہ ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔
صورتِ تقسیم یہ ہے:
میت (والدین):8
| بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹی | بیٹی |
| 2 | 2 | 2 | 1 | 1 |
یعنی فیصد کے اعتبار سے 25،25فیصد ہر ایک بیٹے کو ،اور 12.5،12.5فیصد ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلاً لملك الواهب لا مشغولاً به) والأصل أن الموهوب إن مشغولاً بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلاً لا، فلو وهب جرابًا فيه طعام الواهب أو دارًا فيها متاعه، أو دابةً عليها سرجه وسلمها كذلك لاتصح، وبعكسه تصح في الطعام والمتاع والسرج فقط؛ لأنّ كلاًّ منها شاغل الملك لواهب لا مشغول به؛ لأن شغله بغير ملك واهبه لايمنع تمامها كرهن وصدقة؛ لأن القبض شرط تمامها وتمامه في العمادية."
(کتاب الھبۃ، ج:5، ص:690، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703100278
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن