بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

تلاوت میں آٹو ٹیون کا استعمال


سوال

آج کل قرآن کی تلاوت میں بعض افراد  "آٹو ٹیون" (Auto-Tune)  نامی سافٹ ویئر یا ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں تاکہ آواز کو مزید خوبصورت اور سُریلا بنایا جا سکے۔ اس پر ایک تحقیقی اور مدلل جواب چاہتے ہیں۔

آٹو ٹیون کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟  آٹو ٹیون ایک ڈیجیٹل آڈیو پروسیسر ہے جو آواز میں موجود  سُر اور لے (Pitch & Scale) کو درست کرتا ہے۔ یہ اصل میں گلوکاروں کے لیے بنایا گیا تھا تاکہ ان کی آواز کو زیادہ میلوڈک (Melodic) اور سُریلا بنایا جا سکے۔ جب کسی آواز پر آٹو ٹیون کا استعمال ہوتا ہے، تو سافٹ ویئر آواز کو کسی مخصوص سکیل(درجے) میں لے آتا ہے، جس سے غلط سُر یا آواز کی بے ترتیبی ختم ہو جاتی ہے۔ (کئی دفعہ اس سے آواز میں بھاری تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے اگر آواز خاص اس صوتی حد سے تجاوز کرے جس میں آٹو ٹیون کو سیٹ کیا گیا ہو آٹو ٹیون ہر حال میں آواز کو ایک خاص حد میں لاتا ہے) جس وجہ سے آٹو ٹیون آواز میں ایک تصنع پیدا کر دیتا ہے جس تلاوت میں آٹو ٹیون استعمال ہو تو جب مقدار تھوڑی زیادہ ہو تو واضح پتہ چلتا ہے کہ یہ عام آواز نہیں مصنوعیت سے لیس(روبوٹیک سی) معلوم ہوتی ہے اور اگر درمیانی مقدار یا کم مقدار میں ہو تو ماہرین کو پتہ چلتا ہے عوام کو نہیں، تو کیا ایسا تصنع قرآن میں جائز ہے ؟ آج کل بہت لوگ قرآن کی تلاوت میں آٹو ٹیون استعمال کرتے ہیں تاکہ تلاوت زیادہ خوبصورت لگے۔ لیکن اس پر شرعی نقطہ نظر جاننا ضروری ہے کہ آیا یہ جائز ہے یا ناجائز؟

نیز، ہم یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ:

1. اگر آٹو ٹیون قرآن کے حروف یا صفات میں تبدیلی نہ کرے، صرف آواز کو بہتر بنائے، تو کیا اس کا استعمال جائز ہوگا؟

2.اگر اس کے استعمال سے حروف یا صفات میں معمولی تبدیلی ہوجائے، تو کیا یہ ناجائز ہوگا؟

3.اگر کوئی بغیر آٹو ٹیون کے اچھی قراءت نہیں کر سکتا، تو کیا اسے یہ ٹیکنالوجی استعمال کرنی چاہیے؟

جواب

جواب سے قبل چند باتیں بطورِ تمہید جاننا ضروری ہے:

1۔ قرآنِ کریم اللہ تعالی کا کلام ہے، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ یہ سب سے بہترین کلام ہے(1)، اس کی فضیلت دیگرکلاموں پر ایسی ہے جیسے اللہ تعالی کی فضیلت ساری مخلوق پر ہے(2)،اس کتاب کی وجہ سے اللہ تعالی بہت سی قوموں کو رفعتیں عطا فرماتے ہیں اور اسی کی وجہ سے بہت سی قوموں کو پست فرمادیتے ہیں۔(3)

2۔   اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کی بعثت کے مقاصد میں سے ’’يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ‘‘  بھی ذکر فرمایا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ قرآنِ کریم کی تلاوت بھی مستقل مقصود  ہے، اور اللہ تعالی نے قرآنِ کریم کے صرف الفاظ پڑھنے پر  بھی ثواب  رکھاہے، چناں چہ رسول اللہ ﷺ  کا ارشادِ گرامی ہے کہ جو شخص قرآنِ کریم کا ایک حرف پڑھتا ہے اسے اس ایک حرف  کے بدلے ایک نیکی ملتی ہے، وہ ایک نیکی دس نیکیوں کے برابر ہوتی، میں یہ نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے، بلکہ الف  الگ حرف ہے، لام  الگ حرف ہے، اور میم الگ حرف ہے۔(4)

3۔ قرآنِ کریم کے  الفاظ کی ادائیگی کے لیے ضروری ہے  کہ اُسے  درست مخارج و صفات  کے ساتھ اور ٹھہر ٹھہر کر  پڑھا جائے(5)، چناں چہ قرآنِ کریم میں مؤمنین کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ قرآنِ کریم کی اس طرح تلاوت کرتے ہیں جیسا کہ اس کا حق ہے، سورۂ بقرہ میں ہے:

الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ أُولَٰئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ [البقرة: 121]

ترجمہ:وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ اسے پڑھتے ہیں جیسا اس کے پڑھنے کا حق ہے، وہی لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں۔ (ترجمہ از مولانا احمد علی لاہوری رحمہ اللہ)

4۔  تکلف ، تصنع اور ریاء سے بچتے ہوئے  قرآن کریم کو اچھی آواز سے پڑھنے کا حکم ہے، چناں چہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ  وہ شخص ہم میں سے نہیں جو قرآن کریم کو اچھی آواز سے نہ پڑھے (6)۔اور ارشادِ نبوی ہے کہ  : قرآن کریم کو اپنی آوازوں سے مزین کرو (7)، مزید فرمایا کہ: قرآن کریم کو اپنی آوازوں سے مزین کرو، کیوں کہ اچھی آواز قرآن کریم کے حسن میں اضافہ کرتی ہے(8)۔اسی طرح اچھی آواز میں کلامِ الہی سننا اللہ تعالی کو بھی پسند ہے، چناں چہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالی نے کسی چیز کو اتنی توجہ سے نہیں سنا جتنا کسی خوش آواز نبی کو غور سے سنا ہو، جو خوش الحانی سے قراءت کرے۔ (9)

5۔  آواز کو مزین کرنے اور لہجے کو نکھارنے میں اس قدر مبالغہ نہ  ہو کہ حروف کے مخارج اور صفات متاثر  ہوں۔ اور  غیر مسلموں کے طرز، گانوں اور نوحوں کے انداز سے مشابہت  نہ ہو، چناں چہ ارشاد ِنبوی ہے: قرآنِ کریم کو عرب کے لہجوں اور آوازوں میں پڑھو ، اہل عشق اور یہود و نصاری کے لہجوں سے بچو، اور میرے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو نغمے اور نوحے کی طرح دہرا دہرا کر قرآن پڑھیں گے، اور وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، ان کے دل اور انہیں پسند کرنے والوں کے دل فتنے سے دوچار ہوں گے۔ (10)

علامہ طیبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ قراءت میں آواز  اور لہجے کو اچھا کرنا مستحب ہے، بشرط یہ کہ مبالغہ کرکے قراءت کی حد سے باہر نہ نکلے، اگر مبالغہ کیا اور کوئی حرف بڑھا دے یا کوئی حرف چھپا دے تو یہ حرام ہے۔ـ(11)

6۔ تلاوت میں خوش اِلحانی  کے ساتھ اِخلاص و للّٰہیت اور خشیتِ الہٰی بھی ہو، یہی وجہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ سے یہ دریافت کیا گیا کہ کون سا شخص قرآن کریم اچھی آواز سے پڑھنے والا ہے؟ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص ہے جسے تم قراءت کرتے ہوئے سنو تو  تمھیں خشیتِ الہٰی کے آثار  محسوس ہوں۔(12)

7۔قرآنِ کریم کی تلاوت میں تحسینِ صوت مقصود تو ہے، لیکن اپنے طبعی لہجے میں قواعدِ تجوید کی رعایت کرتے ہوئے خوش آوازی سے بلاتکلف پڑھا جائے، اس  کے لیے انسان جدید آلات اور سافٹ وئیرز وغیرہ کے ذریعہ آواز کو خوبصورت بنانے کا مکلف نہیں۔

مذکورہ بالا تمہید  کی روشنی میں عرض ہے کہ اگر آٹو ٹیون کے ذریعہ انسان کی آواز  مصنوعی مشینی آواز  میں تبدیل ہوجائے  جس سے لوگوں کو دھوکا ہو، یا حروف میں کمی زیادتی ہو یا  حروف کے مخارج  و صفات میں تبدیلی ہو، یا اس میں گانے یا نوحے کی مشابہت ہو،یا کوئی فاسد نیت  ہو  تو اس کا استعمال جائز نہیں ہے۔

اور اگر مذکورہ مفاسد نہ ہوں توآٹو ٹیون استعمال کرنے کی گنجائش ہے۔

نیز جو شخص طبعی طور پر خوش الحانی کے ساتھ تلاوت نہیں کر سکتا اُسےآٹو ٹیون یا دیگر مصنوعی ذرائع کا استعمال نہیں کرناچاہیے ؛ کیوں کہ  اپنی آواز کو مصنوعی طور پر خوبصورت بنا کر لوگوں کو متاثر کرنا یا  حقیقت کے خلاف اپنی آواز کو بہتر ظاہر کرنا ریا کاری اور دھوکا ہے۔ ایسے شخص کوچاہیے کہ وہ اپنے طبعی لہجے میں قواعدِ تجوید کی رعایت کے ساتھ تلاوت کرے، اور  اگر اس میں کوئی کمی ہے تو اس میں بہتری لانے کی کوشش کرے، یہی باعثِ اجر و ثواب ہے۔

حوالہ جات

(1) عن ‌جابر بن عبد الله ، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا خطب احمرت عيناه، وعلا صوته، واشتد غضبه. حتى كأنه منذر جيش، يقول: صبحكم ومساكم. ويقول: بعثت أنا والساعة كهاتين، ويقرن بين إصبعيه السبابة والوسطى. ويقول: أما بعد. فإن ‌خير ‌الحديث ‌كتاب ‌الله. وخير الهدى هدى محمد. وشر الأمور محدثاتها. وكل بدعة ضلالة

(صحيح مسلم، كتاب الجمعة، باب تخفيف الصلاة والخطبة، 3/ 11، ط: دار المنهاج)

(2) عن شهر بن حوشب، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إن ‌فضل ‌كلام ‌الله على سائر الكلام كفضل الله جل وعلا على سائر خلقه

(المراسيل لأبي داود، كتاب الطهارة، باب في البدع، ص: 361، ط: مؤسسة الرسالة)

(3) عن ‌عامر بن واثلة ... قال عمر: أما إن نبيكم صلى الله عليه وسلم قد قال: إن الله ‌يرفع ‌بهذا ‌الكتاب أقواما ويضع به آخرين

(صحيح مسلم، كتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب فضل من يقوم بالقرآن ويعلمه، 2/ 201 ط: دار المنهاج)
الحديث السابع عن عمر رضي الله عنه: قوله: (إن الله ‌يرفع ‌بهذا ‌الكتاب أقوامًا) أي من قرأه، وعمل بمقتضاه مخلصًا، لقوله تعالي: {إليه يصعد الكلم الطيب والعمل الصالح يرفعه} ومن قرأه مرائيًا يضعه أسفل السافلين، لقوله تعالي: {والذين يمكرون السيئات لهم عذاب شديد ومكر أولئك هو يبور}

(شرح المشكاة للطيبي الكاشف عن حقائق السنن، كتاب فضائل القرآن، 5/ 1637، ط: مكتبة نزار مصطفى الباز)

(4) وعن ابن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من قرأ حرفا من كتاب الله فله به حسنة والحسنة بعشر أمثالها لا أقول: آلم حرف. ألف حرف ولام حرف وميم حرف، رواه الترمذي والدارمي

(مشكاة المصابيح، كتاب فضائل القرآن، الفصل الثاني، 1/ 659، ط: المكتب الإسلامي)

(5) وقيل : يقرءونه حق قراءته.
قلت : وهذا فيه بعد، إلا أن يكون المعنى يرتلون ألفاظه، ويفهمون معانيه، فإن بفهم المعاني يكون الاتباع لمن وفق.

(تفسير القرطبي، سورة البقرة، 2/ 96، ط: دار الكتب المصرية)

(6) وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ليس منا من لم يتغن بالقرآن» . رواه البخاري

(مشكاة المصابيح، كتاب فضائل القرآن، باب آداب التلاوة، الفصل الأول، 1/ 672، ط: المكتب الإسلامي)

(7) وعن البراء بن عازب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: زينوا القرآن بأصواتكم. رواه أحمد وأبو داود وابن ماجه والدارمي

(مشكاة المصابيح، كتاب فضائل القرآن، باب آداب التلاوة، الفصل الأول، 1/ 674، ط: المكتب الإسلامي)

(8) وعن البراء بن عازب رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: حسنوا القرآن بأصواتكم فإن الصوت الحسن يزيد القرآن حسنا،  رواه الدارمي

(مشكاة المصابيح، كتاب فضائل القرآن، باب آداب التلاوة، الفصل الثالث، 1/ 676، ط: المكتب الإسلامي)

(9) وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما أذن الله لشيء ما أذن لنبي يتغنى بالقرآن

(مشكاة المصابيح، كتاب فضائل القرآن، باب آداب التلاوة، الفصل الأول، 1/ 672، ط: المكتب الإسلامي)

(10)  وعن حذيفة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اقرؤوا القرآن بلحون العرب و أصواتها وإياكم ولحون أهل العشق ولحون أهل الكتابين وسيجي بعدي قوم يرجعون بالقرآن ترجیع الغناء والنوح لا يجاوز حناجرهم مفتونه قلوبهم وقلوب الذين يعجبهم شأنهم، رواه البيهقي في شعب الإيمان

(مشكاة المصابيح، كتاب فضائل القرآن، باب آداب التلاوة، الفصل الثالث، 1/ 675، ط: المكتب الإسلامي)

(11) يستحب تحسين الصوت بالقراءة، وتزيينها بالألحان ما لم يخرج عن حد القراءة بالتمطيط، فإن أفرط حتى زاد حرفاً، أو أخفي حرفاً فهو حرام

(شرح المشكاة للطيبي الكاشف عن حقائق السنن، كتاب فضائل القرآن، باب آداب التلاوة، 5/ 1682، ط: مكتبة نزار مصطفى الباز)

(12) وعن طاووس مرسلا قال: سئل النبي صلى الله عليه وسلم: أي الناس أحسن صوتا للقرآن؟ وأحسن قراءة؟ قال: «من إذا سمعته يقرأ أريت أنه يخشى الله» . قال طاووس: وكان طلق كذلك. رواه الدارمي

(مشكاة المصابيح، كتاب فضائل القرآن، باب آداب التلاوة، الفصل الثالث، 1/ 676، ط: المكتب الإسلامي)

فقط و اللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144609101528

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں