بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

تلاوت کے لیے گلا صاف رکھنے کی غرض سے ہونٹوں پر زیتون کا تیل لگا کر نماز ادا کرنا


سوال

میں ایک مسجد میں امام ہوں میرا سوال یہ ہے کہ مجھے گلا بار بار صاف کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے، (وسوسہ کی بناء پر نہیں  بلکہ گلے میں زیادہ تر اوقات بلغم موجود ہونے کی وجہ سےگلا صاف کرنا پڑتا ہے) اور نماز کے دوران بار بار کنکھارنا مناسب نہیں ہوتا تو اس کے لئے ایک طبیب نے مجھے زیتون کا تیل ہونٹوں پر لگانے کا کہا، اب میں نماز سے دو تین منٹ پہلے ہونٹوں پر زیتون کا تیل لگا کر جب نماز پڑھاتا ہوں تو وہ بیماری بھی ختم ہو جاتی ہے اور آواز بھی بہت بہتر ہو جاتی ہے، اور میں نے تقریبا ایک مہینہ مسلسل نمازیں ایسی ہی حالت میں پڑھائی ہیں۔

اب اصل سوال یہ کہ کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟ اور کیا اگر کچھ ذرات نماز کے دوران منہ میں جائیں تو اس کا کیا حکم ہے؟ اور اگر منہ میں نہ جائیں صرف ذائقہ منہ میں محسوس ہو رہا ہو تو کیا حکم ہے ؟

جواب

بصورتِ مسئولہ سائل کا نماز سے دو تین منٹ قبل ہونٹوں پر زیتون کا تیل لگانے کے بعد اگر نماز میں تیل کا  فقط ذائقہ محسوس ہوتا ہو، اور ظاہری ہونٹوں پراتنا تیل  نہ لگاہو کہ تلاوت کے دوران اُس کے ذرات اندر جائیں، تو اِس صورت میں نماز ہوجائے گی۔بصورتِ دیگر یعنی اگر  ہونٹوں پر لگا  ہوا زیتون کا تیل اتنا زیادہ لگا ہو کہ  اُس کے ذرات تلاوت کے دوران اندر جاتے ہوں تو اِس صورت میں نماز فاسد ہوجائے گی۔لہذا احتیاط کا تقاضا یہی ہےکہ تیل نہ لگایا جائے اور گلاصاف کرنے کے عذر کے پیش نظر کھنکھارنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ورنہ تیل نماز کے وقت سے کچھ دیر قبل لگایا جائےکہ اُس کے ذرات وغیرہ اندر جانے کا اندیشہ نہ رہے۔

فتاوی رحیمیہ میں ہے :

”سوال : سنت ِ فجر پڑھ کر گھر پر خمیرہ کھایا ،بعد میں مسجد پہنچا اور جماعت میں شریک ہوگیا ،کلی کرنا یاد نہ رہا ،نماز میں گلے میں خمیر کی شیرینی محسوس ہوئی تھی تو نماز ہوئی یا نہیں؟

الجواب :جب خمیرہ منہ میں نہیں صرف مٹھاس ہی ہے  تو نماز میں کوئی خرابی یا فساد نہیں ،بدوں حرج کے ادا ہوگئی اعادہ کی ضرورت نہیںولو أكل شيئا من الحلاوة وابتلع عينها ودخل في الصلاة فوجد حلاوتها في فيه وابتلعها لا تفسد الصلاةیعنی کوئی میٹھی چیز کھائی اور اس کو نگل لیا پھر نمازمیں داخل ہوگیا (نماز کی نیت باندھ لی) اب اس کی مٹھاس منہ میں پائی اور اس کو نگل لیا تو نماز فاسد نہیں ہوگی ۔“

(کتاب الصلاۃ،مفسدات الصلاۃ،ج:5،ص:112،دارالاشاعت)

عمدۃ الفقہ میں ہے :

”نماز کے اندر کھانا پینا، مطلقاً نماز کو فاسد کرتا ہے، خواہ قصداً ہو یا بھول کر، تھوڑا ہو یا زیادہ حتی کہ اگر باہر سے ایک تل منہ میں لیا اور نگل گیا تو نماز فاسد ہو جائے گی یا کوئی پانی وغیرہ کا قطرہ یا برف کا ٹکڑا منہ کے اندر چلا گیا اور وہ اسے نگل گیا تو نماز فاسد ہو جائے گی، نماز شروع کرنے سے پہلے کوئی چیز  منہ میں لگی ہوئی تھی اگر وہ چنے کی مقدار سے کم تھی اور اس کو نگل گیا تو نماز فاسد نہیں ہو گی، مگر مکروہ ہے، اور اگر چنے کے برابر یا زیادہ ہو گی تو  نماز فاسد ہو جائے گی، اصول یہ ہے کہ جس چیز کو کھانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اس سے نماز بھی ٹوٹ جاتی ہے ورنہ نہیں، کوئی میٹھی چیز نماز سے پہلے کھائی تھی نماز کے اندر اس مٹھاس کا اثر جو منہ میں موجود تھا وہ تھوک کے ساتھ اندر جاتا ہے تو مفسد نہیں، اگر مصری یا شکر یا پان وغیرہ منہ میں رکھ لیا چبایا نہیں اور وہ گھل کر حلق میں جاتا ہے تب بھی نماز فاسد ہو جائے گی، اگر دانتوں سے خون نکلا اور تھوک میں مل کر حلق میں  گیا اور نگل گیا تو خون کا مزہ حلق میں محسوس ہونے کی صورت میں نماز ٹوٹ جائے گی۔“

(مفسدات نماز ،ج:2،ص:258،زوار اکیڈمی)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وأكله وشربه مطلقا) ولو سمسمة ناسيا (إلا إذا كان بين أسنانه مأكول) دون الحمصة كما في الصوم هو الصحيح قاله الباقاني (فابتلعه) أما المضغ فمفسد كسكر في فيه يبتلع ذوبه.

وفي الرد: قال في البحر عن الخلاصة: ولو أكل شيئا من الحلاوة وابتلع عينها فدخل في الصلاة فوجد حلاوتها في فيه وابتلعها لا تفسد صلاته، ولو أدخل الفانيد أو السكر في فيه ولم يمضغه لكن يصلي والحلاوة تصل إلى جوفه تفسد صلاته. اه."

(كتاب الصلاة،  باب مايفسد الصلاة ،ج:1، ص:623، ط:سعيد)

الموسوعة الفقهية الكويتية میں ہے:

"ويكره - أيضًا - عند الحنفية والمالكية والحنابلة وضع شيء في فمه لايمنعه من القراءة؛ لأنه يشغل باله، وصرح الحنفية بأن يكون هذا الشيء لايذوب، فإن كان يذوب كالسكر يكون في فيه، فإنه تفسد صلاته إذا ابتلع ذوبه."

(حرف الصاد، صلاة، الأماكن التي تكره الصلاة فيها، 116/27، ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية - الكويت)

فقط والله اعلم 


فتویٰ نمبر : 144706100905

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں