
اللہ تعالٰی کا فرمان:﴿فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ﴾(سورۃ النحل، اٰیة:98) کی وجہ سے ابتداءِ تلاوت میں استعاذہ(اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم) پڑھنا بعض علماء مجودین کے نزدیک واجب ، جب کہ جمہور علماء مجودین کے نزدیک مستحب ہے اور بسملہ(بسم اللہ الرحمٰن الرحیم) پڑھنا ابتداءِ سورت میں ضروری ہے۔
مولانا قاری محمد عدنان صاحب مد ظلہ نے کلاس میں سورۃ یٰس کی بایں صورت تلاوت کی:اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم، سورۃ یٰس مکیۃ، بسم اللہ الرحمن الرحیم(یعنی پہلے استعاذہ، پھر سورۃ کا نام، پھر بسم اللہ اور پھر سورۃ شروع کی)، اس پر مولانا قاری محمد عاصم سرگانہ شہید رحمۃ اللہ علیہ نے اعتراض فرمایا کہ ہم تو کلاس میں طلباء کو یوں کہلواتے ہیں: پہلے سورۃ کا نام، پھر استعاذہ، پھر بسم اللہ اور پھر سورۃ شروع کرتے ہیں، بطورِ دلیل فرمایا کہ استعاذہ قرآن اور غیر قرآن میں فرق کرنے کے لیے ہے، سورۃ کا نام لینا نہ تو سورۃ کا جزء ہے اور نہ قرآن پاک کا حصہ ہے، لیکن عمل کرنے کا بہتر طریقہ یہی ہے کہ سورۃ کا نام پہلے اور استعاذہ دوسرے نمبر پر ہو؛ تاکہ استعاذہ اور تلاوت میں اتصال رہے، بصورتِ دیگر تلاوت اور استعاذہ کے درمیان غیرِ قرآنی الفاظ سے فصل لازم آئے گا، اتصال فصل سے اولٰی ہے۔
اب دریافت طلب عمل یہ ہے کہ کون سی صورت صحیح اور اولویت کے درجہ پر ہے؟ نیز قُرّاء عشرہ اور ان کی رُواۃ کا عمل کون سی صورت پر تھا؟ ان میں سے صحیح صورت کی دلائل کے ساتھ نشان دہی کر لیں۔
واضح رہے کہ قرآن پاک کی تلاوت شروع کرنے سے پہلے استعاذہ (أعوذ بالله من الشيطن الرجيم)پڑھناسنت ہے،نیز در اصل استعاذہ کی مشروعیت کلام اللہ اور کلام الناس میں فرق کو ظاہر کر نے کے لیے ہے، اور تلاوت کے درمیان غیر کلام سے فصل آنے کی صورت میں بھی تعوذ پڑھنا چاہیے؛لہذا صورت مسئولہ میں اولی اور بہتر صورت یہ ہے کہ طلبہ کو سب سے پہلے سورت کا نام کہلوایا جائے ،اس کے بعد استعاذہ اور بسملہ (بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ) کہلوایا جائے،البتہ سورت کانام اگرچہ قرآن کا حصہ نہیں لیکن قرآن سے متعلق ضرور ہے،اس لیے استعاذہ اور بسملہ کے درمیان سورت کا نام لینے سے فصل تو لازم نہیں آئے گا ،لیکن افضل بہرحال استعاذہ اور بسملہ کا اتصال ہی ہے۔
التبیان فی آداب جملۃ القرآن”للنووی“ میں ہے:
"فإن أراد الشروع في القراءة استعاذ فقال أعوذ بالله من الشيطان الرجيم هكذا قال الجمهور من العلماء......ثم إن التعوذ مستحب وليس بواجب وهو مستحب لكل قارئ سواء كان في الصلاة أو في غيرها....... قال وينبغي أن يحافظ على قراءة بسم الله الرحمن الرحيم في أول كل سورة سوى براءة فإن أكثر العلماء قالوا إنها آية حيث تكتب في المصحف وقد كتبت في أوائل السور سوى براءة فإذا قرأها كان متيقنا قراءة الختمة أو السورة فإذا أخل بالبسملة كان تاركا لبعض القرآن عند الأكثرين دقيقة."
(الباب السادس في اٰداب القراٰن، فصل: فإن أراد الشروع في القراءة استعاذ، ص:82، ط:دار إبن حزم)
الاتقان فی علوم القراٰن میں ہے:
"ويسن التعوذ قبل القراءة قال تعالى {فإذا قرأت القرآن فاستعذ بالله من الشيطان الرجيم} أي أردت قراءته..........وليحافظ على قراءة البسملة أول كل سورة غير براءة لأن أكثر العلماء على أنها آية فإذا أخل بها كان تاركا لبعض الختمة عند الأكثرين فإن قرأ من أثناء سورة استحبت له أيضا."
(النوع الخامس والثلاثون:في اٰداب تلاوته و تالیه، ج:1، ص:364، ط:الھیئة المصریة)
احکام القرآن للجصاص میں ہے:
"والاستعاذة ليست بفرض لأن النبي صلى الله عليه وسلم لم يعلمها الأعرابي حين علمه الصلاة ولو كانت فرضا لم يخله من تعليمها"
(سورۃ النحل،الآیة:98،ج:5، ص:12، ط:دار احیاء التراث العربی)
روح المعانی میں ہے:
"وللجمهور مارواه أئمة القراءة مسندا عن نافع عن جبير بن مطعم أنه صلى الله عليه وسلم كان يقول قبل القراءة: «أعوذ بالله من الشيطان الرجيم»" قال في الكشف، دل الحديث على أن التقديم هو السنة فبقي سببية القراءة لها، والفاء في فاستعذ دلت على السببية فلتقدر الإرادة ليصح."
(سورۃ النحل، الآیة:98، ج:7، ص:465، ط:دار الکتب العلمیة)
تفسیر البغوی میں ہے:
"قوله سبحانه وتعالى: فإذا قرأت القرآن، أي: إذا أردت قراءة القرآن فاستعذ بالله من الشيطان الرجيم، كقوله تعالى: إذا قمتم إلى الصلاة فاغسلوا [المائدة: 6] ، والاستعاذة سنة عند قراءة القرآن، وأكثر العلماء على أن الاستعاذة قبل القراءة. وقال أبو هريرة: بعدها ولفظه أن يقول أعوذ بالله من الشيطان الرجيم."
(سورۃ النحل،الآیة:98، ج:3، ص:95، ط:دار احیاء التراث العربی)
لطائف الاشارات میں ہے:
"إذا قطع القارئ القراءة لعارض من سؤال أو كلام يتعلق بالقراءة لم يعده، بخلاف ما إذا كان الكلام أجنبيا، ولو رد السلام فإنه يستأنف الاستعاذة."
(الباب الاول فی الوسائل،الجزء السادس،المبحث السادس، ج:1، ص:92، ط:مکتبة اولاد الشیخ مصر)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144706101332
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن