بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

تلاوتِ قرآن کی غرض سے کیے گئے تیمم سے نماز پڑھنے کا حکم


سوال

قرآن پڑھنے کے تیمم سے نماز پڑھناکیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ بعض عبادتیں ایسی ہوتی ہیں جن کے لیے طہارت شرط ہوتی ہے اور بعض عبادتوں کے لیے طہارت شرط نہیں ہوتی۔ اس لیے اگرایسی عبادت کے لیے تیمم کیا جائے جس کے لیے طہارت شرط ہو،مثلًا:نماز، سجدہ تلاوت وغیرہ  تو اس تیمم سے جملہ عبادات ادا کرنا جائز ہے۔ اور اگر ایسی عبادت کے لیے تیمم کیا جائے جس کے لیے طہارت شرط نہیں، جیسے تلاوت قرآن، دخول مسجد، یا اذان، تو اس نیت سے جو تیمم کیا گیا ہے، اس  تیمم کے ساتھ وہ عبادتیں ادا کرنا درست نہیں جن کے لیے طہارت شرط ہو۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں تلاوتِ قرآن کےلیے چونکہ تیمم شرط نہیں اس لیے اس تیمم سے نماز پڑھنابھی درست نہیں۔

فتح القدیر میں ہے:

"‌وصرحوا بأنه ‌لو ‌تيمم ‌لدخول المسجد أو للقراءة ولو من المصحف أو مسه أو زيارة القبور أو دفن الميت أو الأذان أو الإقامة أو السلام أو رده أو الإسلام لا تجوز الصلاة بذلك التيمم عند عامة المشايخ إلا من شذ وهو أبو بكر بن سعيد البلخي مع وجود نية التيمم في ضمن ذلك لأنه في الحاصل نوى التيمم لكذا، فعلمنا أن نية نفس الفعل ليست بمعتبرة بل أن ينوي به المقصود من الطهارة وللصلاة ولو صلاة الجنازة وسجدة التلاوة. نعم روي في النوادر: لو مسح وجهه وذراعيه ينوي التيمم جاز به الصلاة."

(كتاب الطهارات،‌‌ باب التيمم، ج:1، ص:130، ط:رشيدية)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144706100159

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں