بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 محرم 1448ھ 20 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ٹک ٹاک (آن لائن بزنس) کے ذریعہ بیع و شراء کی مختلف صورتیں اور ان کے احکام


سوال

ہم ٹک ٹاک کے ذریعے پیسے کماتے ہیں، جس کی درج ذیل چار صورتیں ہیں:

1۔ ہم ٹک ٹاک وغیرہ پر مختلف پروڈکٹس کی تشہیر کرتے ہیں، یہ پروڈکٹس ہمارے پاس موجود نہیں ہوتیں، بلکہ سپلائر کے پاس موجود ہوتی ہیں، اور سپلائر نے ہمیں اپنی پروڈکٹس فروخت کرنے کی اجازت دی ہوتی ہے، سپلائر ہم سے کہتا ہے کہ "یہ پروڈکٹ آپ فروخت کریں، اس کی اصل قیمت مثلاً دس روپے مجھے دے دیں، اور اس کے اوپر جو نفع ہو وہ آپ رکھ لیں"، اس صورت میں چیز کی اصل قیمت کے علاوہ سارا نفع ہمارا ہوتا ہے، یعنی ہمارے لیے نفع کی کوئی مقدار متعین نہیں ہے۔

کبھی سپلائر یوں بھی کہتا ہے کہ "میں آپ کو یہ چیز دس روپےمیں وکالت کے طور پر دے رہا ہوں، آپ اسے پندرہ روپے میں فروخت کریں، پانچ روپے آپ رکھ لیں اور دس روپے مجھے دیں"، اس صورت میں گاہک جب کوئی آرڈر کرتا ہے تو ہم سپلائر (اصل مالک) کو آرڈر دے دیتے ہیں، وہ خود براہ راست خریدار تک پہنچا دیتا ہے، البتہ خریدار سے وصول ہونے والی رقم پہلے ہمارے اکاؤنٹ میں آتی ہے، ہم سپلائر کو طے شدہ رقم دے کر نفع اپنے پاس رکھ لیتے ہیں، تو کیا شرعاً یہ طریقہ کار جائز ہے یا نہیں؟

2۔ دوسری صورت یہ ہے کہ تشہیر کے ساتھ ساتھ ہم سپلائر سے پروڈکٹس خرید لیتے ہیں، سپلائر خود "U.K" میں موجود ہوتا ہے، اور ہمارا ایک نمائندہ بھی وہیں موجود ہوتا ہے، جو سپلائر کے پاس جا کر مال دیکھ لیتا ہے اور چیز کی موجودگی اور درستگی کی تصدیق کرلیتا ہے، ہم نے اس نمائندے کو قبضہ کرنے اور چیز کی رؤیت کا وکیل بنایا ہوتا ہے، لیکن یہ نمائندہ پروڈکٹس کی تصدیق کرنے کے بعد اسے سپلائر ہی کے پاس چھوڑ دیتا ہے۔ اور آگے خریدار تک یہی سپلائر پہنچا دیتاہے، کیا یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟

نیز اس صورت میں کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ ہم سپلائر کے پاس کچھ رقم ایڈوانس رکھوا لیتے ہیں ، اور سپلائر سے یہ طے ہوتا ہے کہ جب بھی کسی پروڈکٹ کا ہماری طرف سے آرڈر آئے گا، اس جمع شدہ رقم سے اس کی قیمت منہا کرکے وہ متعلقہ خریدار کو آگے بھیج دے گا، اس صورت میں ہمارا نمائندہ وہاں نہیں ہوتا بلکہ یہ معاملہ ہمارے اور سپلائر کے درمیان ہی ہوتا ہے، تو کیا یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو اس کا متبادل کیا ہوگا؟

3۔ تیسری صورت یہ ہے کہ ہم پہلے سے ہی سپلائر سے کچھ مال خرید لیتے ہیں، جو اس کے پاس موجود ہوتا ہے، ہم اس کی قیمت بھی ادا کر چکے ہوتے ہیں، تو اس طرح اس مال پر ہماری ملکیت ثابت ہوجاتی ہے، البتہ قبضہ ثابت نہیں ہوتا، چنانچہ جب ہم آنلائن چیز کو فروخت کرتے ہیں تو وہی سپلائر اسے ہمارے کسٹمر تک پہنچا دیتا ہے، یعنی ہماری مملوکہ چیز کو ہمارے قبضہ سے پہلے ہی سپلائر بھیج دیتا ہے، کیا یہ جائز ہے؟

4۔ چوتھی صورت یہ ہے کہ ہم اپنے کسٹمر کو پہلے ہی یہ بتا دیتے ہیں کہ مبیع ہمارے پاس موجود نہیں ہے، ہم آپ  کو کسی اور سے خرید کر دیں گے، اس صورت میں ہم گاہک سے معاملہ طے کرنے کے بعد اس سے رقم لے لیتے ہیں،  اور پھر تیسرے شخص سے متعلقہ پروڈکٹ خرید کر اپنے گاہک کو ہم اس سپلائر کے ذریعہ بھیج دیتے ہیں، تو اس صورت میں بھی مبیع پر قبضہ کیے بغیر ہی آگے فروخت کیا جاتا ہے، البتہ اتنی بات ہے کہ ہم نے اپنے کسٹمر کو اس صورتِ حال سے پہلے ہی آگاہ کیا ہوتا ہے، تو کیا آگاہ کرنے کے بعد بیع کی یہ صورت جائز ہوگی یا نہیں؟ 

جواب

واضح رہے کہ کسی بھی چیز کی فروختگی کے جائز ہونے کی بنیادی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ جو چیز فروخت کرنا مقصود ہو وہ چیز فروخت کنندہ کی یا تو ملکیت میں ہو یا سودا کرنے والا فروختگی کا وکیل ہو، نیز منقولی اشیاء کی فروختگی کے جائز ہونے میں ایک شرط یہ بھی ہے کہ فروخت کی جانے والی چیز فروخت کنندہ کے قبضہ میں بھی ہو، اسی طرح کسی اور کی چیز فروخت کرنے کی صورت میں مالک کی طرف سے فروختگی کی اجازت اور متعین اجرت طے ہونا بھی ضروری ہوتا ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل نے فروختگی کی جتنی صورتیں بیان کی ہیں ان میں صرف ایک صورت (یعنی سپلائیر کی جانب سے یہ کہنا کہ یہ چیز دس روپے میں وکالت کے طور پر دے رہا ہوں، آپ اسے پندرہ روپے میں فروخت کریں، پانچ روپے آپ رکھیں اور دس روپے مجھے دیں) کے باقی تمام صورتیں ناجائز ہیں، جس کی تفصیل یہ ہے:

1۔ اگر اجرت متعین نہ ہو، مثلاً:"یہ چیز تم فروخت کرو، دس روپے مجھے دینا، باقی اوپر کا تمہارا" اجرت متعین نہ ہونے کی وجہ سے نا جائز ہے(1)۔

دوسری، تیسری اور چوتھی صورت میں چونکہ مبیع کو قبضہ سے پہلے ہی آگے فروخت کیا جاتا ہے، اور یہ نا جائز ہے، کیونکہ شرعی اصول یہ ہے کہ منقولہ اشیاء کو قبضے میں لیے بغیر آگے فروخت کرنا جائز نہیں ہے(2)۔ اس میں سودے کے شرعا درست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ سپلائر سے خریدنے سے پہلے سائل  اپنے گاہک سے حتمی سودا نہ کرے، بلکہ صرف وعدہ کرلے کہ میں آپ کے لیے یہ چیز کمپنی سے منگوادوں گا(3)، کیوں کہ کسی چیز کے ملکیت میں آنے سے پہلے بیچنا جائز نہیں ہے، لہٰذا جب سائل کمپنی سے چیز خرید کر قبضہ کرلے تب ہی گاہک کو فروخت کرنا جائز ہوگا، اس لیے سائل کو چاہیے کہ کمپنی سے چیز خریدنے کے بعد پہلے خود یا اپنے وکیل کے ذریعہ اس پر قبضہ حاصل کرے، پھر اسے آگے فروخت کرے۔

نیز چوں کہ وکیل کا قبضہ بھی اپنے قبضے کی طرح ہوتا ہے اس لیے اگر سائل کے لیے خود جاکر قبضہ کرنا مشکل ہو تو کسی وکیل کو بھیج کر بھی قبضہ کیا جاسکتا ہے، قبضہ کے تحقق کے لیے وکیل کا صرف دیکھنا کافی نہیں ہوتا، لہذا قبضہ کی ایک جائز صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ سائل چیز کو آگے پہنچانے کے لیے  اپنے نمائندہ کو کمپنی بھیج دے، جو سپلائر سے مال وصول کرکے مطلوبہ شخص تک مال پہنچائے، تو یہ سودا درست ہوجائے گا، اسی طرح ایک صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ سائل کسی کو وکیل بناکر بھیج دے اور وکیل اپنی نگرانی میں گاڑی مال لوڈ کرواکر گاہک کے پاس روانہ کردے تو ایسا کرنے سے بھی سائل کا قبضہ ثابت ہوجائے گا(4)۔  الغرض سائل کے خود یا اس کے وکیل/ نمائندہ کی جانب سے مال پر باقاعدہ قبضہ کیے بغیر آگے کسی کو فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں ہوگا، البتہ قبضے کے تحقق کی کوئی بھی جائز صورت اختیار کرنے سے سائل کا گاہک کو مال فروخت کرنا جائز ہوجائے گا ۔

(1) فتاوی شامی میں ہے:

"(تفسد الإجارة بالشروط المخالفة لمقتضى العقد فكل  ما أفسد البيع) مما مر (يفسدها) كجهالة مأجور أو أجرة أو مدة أو عمل... (قوله فكل) تفريع على مقدر أي الإجارة نوع من البيع إذ هي بيع المنافع".

(كتاب الإجارة، ج: 6، ص: 46، دار الفکر)

درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"وإذا أعطى أحد مالا للدلال قائلا: إذا بعت المال بزيادة عن كذا فلك الزيادة فالإجارة فاسدة، وحكم هذا الدلال كالأجير المشترك (البزازية)".

(الكتاب الثاني الإجارة، الباب السادس، الفصل الرابع، ج:1، ص:662، ط:دار الجيل)

(2) الجوہرۃ النیرۃ میں ہے:

"... فالبيع فاسد... وقد نهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن صفقتين في صفقة، ونهى عن بيع وشرط، و عن شرطين في بيع، وعن بيع وسلف، وعن ربح ما لم يضمن، وعن بيع ما لم يقبض، وعن بيع ما ليس عند الإنسان".

(كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، ج:1، ص:203، المطبعة الخيرية)

تبین الحقائق میں ہے:

"قال رحمه الله (لا بيع المنقول) أي لا يجوز بيع المنقول قبل القبض لما روينا ولقوله عليه الصلاة والسلام «إذا ابتعت طعاما فلا تبعه حتى تستوفيه» رواه مسلم وأحمد ولأن ‌فيه ‌غرر ‌انفساخ ‌العقد على اعتبار الهلاك قبل القبض؛ لأنه إذا هلك المبيع قبل القبض ينفسخ العقد فيتبين أنه باع ما لا يملك والغرر حرام لما روينا".

(کتاب البیوع، باب التولية،  ج:4 ، ص:80، ط: دار الكتاب الإسلامي)

     فتاوی شامی میں ہے:

"ثم التسليم يكون بالتخلية على وجه يتمكن من القبض بلا مانع ولا حائل. وشرط في الأجناس شرطا ثالثا وهو أن يقول: خليت بينك وبين المبيع فلو لم يقله أو كان بعيدا لم يصر قابضا والناس عنه غافلون، فإنهم يشترون قرية ويقرون بالتسليم والقبض، وهو لا يصح به القبض على الصحيح. (قوله: أن يقول خليت إلخ) الظاهر أن المراد به الإذن بالقبض لا خصوص لفظ التخلية، لما في البحر ولو قال: البائع للمشتري بعد البيع: خذ لا يكون قبضا ولو قال: خذه يكون تخلية إذا كان يصل إلى أخذه".

(كتاب البيوع،  ج:4، ص:561، ط:دار الفكر)

(3) فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإن ذكرا البيع من غير شرط ثم ذكرا الشرط على وجه المواعدة جاز البيع ويلزم الوفاء بالوعد كذا في فتاوى قاضي خان".

(كتاب البيوع، الباب العشرون، ج:3، ص:209، ط:دار الفكر)

(4) درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"أما إذا سلم البائع المبيع إلى شخص أمر المشتري بتسليمه إليه فقد حصل القبض كما لو سلم البائع المبيع إلى المشتري نفسه فإذا أمر المشتري البائع قبل القبض بتسليم المبيع إلى شخص معين وسلم البائع المبيع إلى ذلك الشخص يكون المشتري قد قبض المبيع".

(الکتاب الأول البیوع، الباب الخامس، الفصل الأول، ج:1، ص:249، ط:دار الجیل)

و فيه أيضا:

"(المادة 333) الوكيل بشراء شيء والوكيل بقبضه]

الوكيل بشراء شيء والوكيل بقبضه تكون رؤيتهما لذلك الشيء كرؤية الأصيل وكذلك الوكيل الذي يوكل لينظر المبيع ويجيزه إذا رضي به أو يفسخه عند رؤيته كرؤية الموكل سواء أكان الموكل بصيرا أم أعمى فلا يبقى بعدئذ للوكيل ولا للموكل خيار رؤية لأن حقوق العقد حسب المادة للوكيل لأن الموكل قد وكله بالقبض وأقامه مقام نفسه".

(الكتاب الأول، الباب السادس، الفصل الخامس، ج:1 ،ص:330، ط:دار الجيل)

فقط و الله أعلم


فتویٰ نمبر : 144711101781

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں