
میں نے قسطوں پر تین پلاٹ لیے ہیں، تمام پلاٹوں کی ایک قسط باقی ہے، جب یہ پلاٹ لیے تھے، تو ذہن میں کوئی خاص پلان نہیں تھا، برائے کرم بتا دیں کہ اس پر زکوۃ ہے یا نہیں؟ پلاٹ لیے تقریباً دس سال ہو گئے ہیں۔
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃ ًمذکورہ پلاٹ خریدتے وقت سائل کی کوئی متعین نیت نہیں تھی، تو ایسی صورت میں سائل پر ان پلاٹوں کی زکات واجب نہیں ہوگی۔
فتاوی شامی میں ہے:
"الأصل أن ما عدا الحجرين والسوائم إنما يزكى بنية التجارة بشرط عدم المانع المؤدي إلى الثني، وشرط مقارنتها لعقد التجارة، وهو كسب المال بالمال بعقد شراء أو إجارة أو استقراض ولو نوى التجارة بعد العقد أو اشترى شيئا للقنية ناويا أنه إن وجد ربحا باعه لا زكاة عليه."
( كتاب الزكوة، ج:2، ص:273، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701100975
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن